احساس کفالت پروگرام کے تحت 70 لاکھ مستحقین کو ادائیگی کا عمل شروع

پہلے مرحلے میں 43 لاکھ خواتین کو 12 ہزار کے حساب سے چھ ماہ کی اکٹھی رقم ملے گی، رقوم کی محفوظ منتقلی کیلئے بائیو میٹرک تصدیق لازم

466

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے احساس کفالت پروگرام کے تحت جولائی 2020ء سے دسمبر 2020ء تک چھ ماہ کی رقم یکمشت دینے کیلئے 70 لاکھ مستحقین کو ادائیگی کا عمل شروع کر دیا۔

وزیراعظم عمران خان نے جمعہ کو اسلام آباد میں احساس کفالت ادائیگی سینٹر کا دورہ کیا، معاونِ خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے وزیر اعظم کو ادائیگیوں کے معیار کو بہتر بنانے اور سائبر حملوں کے خلاف تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔

وزیرِاعظم کو بتایا گیا کہ اب کی بار خواتین کی بینکوں تک رسائی اور اے ٹی ایم سے رقم کی وصولی کو یقینی بنایا گیا ہے، یہ نظام مستحق خواتین کو بدعنوان ایجنٹس اور پیسوں کی کٹوتی کرنے والوں مجرمانہ ذہنیت کے افراد  سے تحفظ مہیا کرے گا۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے مطابق احساس کفالت کی ادائیگی مختلف مراحل میں کی جائے گی، پہلے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے جس کے تحت 43 لاکھ مستحق خواتین کو ادائیگی شروع ہو گئی ہے، ہر وصول کنندہ کو 12 ہزار روپے دیئے جائیں گے یہ رقم جولائی 2020ء سے دسمبر 2020ء کے عرصہ کیلئے ہے.

وزیراعظم عمران خان کا اسلام آباد میں احساس کفالت ادائیگی سینٹر کا دورہ (اے پی پی)

واضح رہے کہ یہ چھ ماہ کی مجموعی رقم کی ادائیگی کی جا رہی ہے، وزیر اعظم پہلے ہی اس تعداد کو 70 لاکھ خواتین تک بڑھانے کی منظوری دے چکے ہیں جس کا مطلب ہے کہ 70 لاکھ گھرانوں کو فائدہ ہو گا۔ اضافی مستحقین کو ادائیگی دسمبر 2020ء کے بعد کی جائے گی اور رواں مالی سال میں یہ عمل مکمل ہو جائے گا۔

وزیراعظم کو احساس ون وومن ون بینک اکاؤنٹ کا ٹرائل رَن بھی دکھایا گیا، اگلے سال سے احساس کفالت سے مستفید ہونے والے افراد کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ چاہیں تو اپنی رقم نکلوا لیں یا ڈیجیٹل والٹ میں محفوظ کر لیں، اس طرح پاکستان میں پہلی بار غریب ترین طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کے پاس اپنی ادائیگی کو محفوظ کرنے کا اختیار ہو گا۔

ڈاکٹر ثانیہ نے کہا کہ ہمیں خواتین کی مالی خواندگی پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ان اقدامات سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں اور صحیح معنوں میں بااختیار ہو جائیں جو اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مالی شمولیت احساس کفالت پروگرام کا مرکزی ہدف ہے اور پاکستان میں لاکھوں انتہائی پسماندہ خواتین کی صلاحیتوں کو ابھارنے کیلئے کلیدی اہمیت کا حامل ہے، عوام کو محفوظ، مفید اور سستی مالیاتی مصنوعات اور خدمات جیسے لین دین، ​​ادائیگی، بچت، قرض اور انشورنس تک رسائی فراہم کرکے حکومت انہیں معاشی تحفظ فراہم کر رہی ہے تاکہ وہ خطِ غربت سے اوپر اٹھ کر اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لئے بہتر زندگی کے مواقع پیدا کریں۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل سسٹم کے تحت ریٹیل پوائنٹس پر بھی ادائیگی بائیومیٹرک تصدیق کے بعد ہو سکے گی، شفافیت اور بدعنوانیوں کی روک تھام کے ساتھ ساتھ حال ہی میں متعدد جدید اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں جن سے وصول کنندگان اپنی رقوم کی منتقلی کی صحیح معنوں میں نگرانی کر سکتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here