متحدہ عرب امارات، غیرملکی سرمایہ کاروں کو سو فیصد ملکیت کا حق

220

ابوظہبی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے غیرملکی سرمایہ کاروں کے کاروبار میں مقامی شہری کی شراکت کی پابندی ختم کر دی ہے، اب غیر ملکی سرمایہ کار امارات میں سو فیصد ملکیتی کمپنیاں قائم کر سکیں گے۔

’الامارات الیوم‘ کے مطابق امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید آل نہیان نے کمپنیوں کے قانون میں ترمیم پر مشتمل صدارتی فرمان جاری کر دیا، نئے قانون کے مطابق آئندہ غیر ملکی سرمایہ کار اور صنعت کار کسی قومیت کی پابندی کے بغیر سو فیصد ذاتی کمپنی قائم کرنے میں ازاد ہوں گے۔

اس سے قبل جو غیرملکی کمپنی امارات میں اپنی شاخ کھولنا چاہتی ہو اس کے لیے کسی مقامی شہری کی خدمات حاصل کرنا ضروری تھا لیکن اب یہ پابندی اٹھا لی گئی ہے۔

اماراتی نیوز ایجنسی ’وام‘ کے  مطابق شیخ خلیفہ بن زاید آل نہیان کی جانب سے جاری کردہ فرمان میں کہا گیا ہے کہ ’معیشت کو تمام قومیتوں کے لئے کھولنے کی جاری کوششوں کے تحت تجارتی کمپنیوں کی غیرملکی ملکیت کے قواعد پر نظرثانی کی جا رہی ہے۔‘

کمرشل کمپنیوں کے بارے میں متحدہ عرب امارات کے 2015ء کے فیڈرل لاء نمبر دو میں اہم ترامیم متعارف کرانے والے اس حکم نامے میں تجارتی کمپنیوں کے لئے ایک اہم اماراتی شیئر ہولڈر یا ایجنٹ رکھنے کی ضرورت کو ختم کر دیا گیا ہے۔

نئی ترامیم کے تحت اب تمام قومیتوں کے افراد کاروباری ادارے قائم کر سکتے ہیں، یہ کمپنیاں اس قانون کے نافذ العمل ہونے کے ایک سال کے اندر اس پر عمل کر سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: 

متحدہ عرب امارات، 2021ء کیلئے 15.8 ارب ڈالر بجٹ منظور

متحدہ عرب امارات، غیر ملکی کارکنوں کو ورک پرمٹ کا اجراء شروع

سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ابتدائی معاہدہ

اماراتی کابینہ کے ایک فیصلے کے تحت اس مدت کو بڑھایا جا سکتا ہے، یہ فرمان براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی قانون) سے متعلق متحدہ عرب امارات کے فیڈرل لاء نمبر 19 کی جگہ لے لے گا۔

اس میں محدود ذمہ داری اور مشترکہ سٹاک کمپنیوں سے متعلق کچھ قواعد و ضوابط بھی شامل ہیں جن کا مقصد غیرملکی سرمائے کو راغب کرنا اور مقامی معیشت کو مزید فروغ دینا ہے۔

اس حکمنامے میں متعلقہ مقامی حکام کو اختیارات کا ایک سیٹ دیا گیا ہے جس میں مختص سرمایے اور کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں اماراتیوں کی ایک مخصوص فیصد کا تعین، مشترکہ سٹاک کمپنیوں کے علاوہ کمپنیوں کے قیام کی درخواستوں کی منظوری اور پالیسیوں کے مطابق فیس اور معاوضوں کی نشاندہی کرنا شامل ہے۔

اہم تبدیلیوں میں یہ بھی شامل ہے کہ مشترکہ سٹاک کمپنیاں بنانے کے خواہش مند ادارے متعلقہ حکام کی منظوری کے بعد کمپنی کے 70 فیصد تک حصص کو ابتدائی عوامی پیشکش (IPOs) کے ذریعے فروخت کر سکتے ہیں۔

اس فرمان کے تحت کابینہ کو ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اختیار دیا گیا ہے جس میں “اسٹریٹجک اثر” کی سرگرمیوں کے حوالے سے تجویز پیش کرنے اور ایسے شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کو لائسنس دینے کے لئے درکار اقدامات کے متعلق متعلقہ حکام کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

کمیٹی کی سفارش پر کابینہ یہ طے کرے گی کہ سٹریٹجک اثرات اور ایسی کمپنیوں کو لائسنس دینے کے لئے مطلوبہ اقدامات کے بارے میں کن سرگرمیوں پر غور کیا جائے گا۔

نئی ترمیم کے تحت جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں الیکٹرانک ووٹنگ کی اجازت ہے، اس حکم نامے میں سیکورٹیز اینڈ کموڈٹیز اتھارٹی کو اختیار حاصل ہے کہ وہ کمپنیوں کے جنرل اسمبلی اجلاسوں میں شرکت کرنے والے سٹیک ہولڈرز کے ناموں سے متعلق حصص کی جانچ کے لئے درکار کنٹرول اور طریقہ کار قائم کرے۔

یہ بورڈ کے ارکان کی تقرری کی بھی اجازت دیتا ہے جن کے پاس مہارت ہے اور وہ اسٹیک ہولڈر نہیں ہیں۔ نیز اگر چیئرمین یا کسی دوسرے بورڈ ممبر کو ان کے خلاف دھوکہ دہی کا ارتکاب کرنے یا غلط استعمال کرنے پر عدالتی فیصلہ جاری کیا گیا ہے تو انہیں برخاست کر دیا جائے گا۔

اس حکمنامے کے تحت سٹیک ہولڈرز فرائض کی ناکامی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات پر سول عدالت میں کسی کمپنی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کے اہل ہوں گے۔

سرکاری کمپنیوں میں سرمایہ بڑھنے یا کم ہونے سے متعلق یہ فرمان کمپنی کو بانڈز جاری کرنے اور حصص میں تبدیل کرنے کے ذریعے اس کے سرمائے میں اضافے کو منظور کرنے کے قابل بناتا ہے ۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here