روسی کورونا ویکسین سپوتنک 95 فیصد موثر، فی خوراک قیمت کتنی ہو گی؟

عالمی مارکیٹ میں ویکسین سپوتنک فائیو کی ایک خوراک کی لاگت 10 ڈالر سے بھی کم ہو گی اور یہ فروری 2021ء سے دستیاب ہو گی: رشین ڈائریکٹ انویسٹمنٹ فنڈ

174

ماسکو: روس نے اپنی تیار کردہ ویکسین سپوتنک فائیو کے کلینیکل ٹرائلز کے مزید نتائج جاری کرتے ہوئے کہا ہےکہ وہ کووِڈ-19 کے مریضوں کے علاج میں 95 فی صد سے زیادہ موثر ثابت ہوئی ہے اور عالمی مارکیٹ میں ایک خوراک کی قیمت 10 ڈالر سے بھی کم ہو گی۔

روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس نے سپوتنک فائیو ویکسین کے کلینیکل آزمائش کے ڈیٹا کا دوسرا عبوری تجزیہ جاری کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ویکسین کی پہلی خوراک دینے کے 42 روز اور دوسری خوراک کے سات روز کے بعد یہ 95 فی صد سے زیادہ موثر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

برطانوی کمپنی کا کورونا کی 90 فیصد تک موثر ویکسین بنانے کا دعویٰ

کورونا ویکسین کتنے ڈالر کی ملے گی؟ امریکی کمپنی نے واضح کر دیا

یونیسیف کا دو ارب کورونا ویکسینز ترقی پذیر ممالک کو مہیا کرنے کا منصوبہ

روس کی وزارتِ صحت کے تحت جمالیہ قومی تحقیقاتی مرکز برائے وبائی امراض اور مائیکرو بیالوجی نے کہا ہے کہ وہ دسمبر 2020ء کے اوائل میں اس ویکسین کے تحفظ اور  موثر ہونے سے متعلق نتائج کو شائع کرے گا۔

اس ویکسین کی تحقیق اور تیاری کے لیے رشین ڈائریکٹ انویسٹمنٹ فنڈ نے رقوم مہیا کی ہیں، اس کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں ویکسین سپوتنک فائیو کی ایک خوراک کی لاگت 10 ڈالر سے بھی کم ہو گی اور یہ فروری 2021ء سے دستیاب ہو گی۔

واضح رہے کہ امریکی دوا ساز کمپنی موڈرنا نے کورونا ویکسین 25 ڈالر سے 37 ڈالر تک فروخت کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ موڈرنا کے سی ای او سٹیفین بانسل نے جرمن خبررساں ادارے سے گفتگو میں بتایا کہ ان کی ویکسین کے ایک شاٹ کی قیمت 10 سے 50 ڈالر کے درمیان ہے۔

تاہم  رشین ڈائریکٹ انویسٹمنٹ فنڈ نے کہا ہے کہ ایک فرد کو اس کی ویکسین کی دو خوراکیں لگانے کی ضرورت ہو گی اور ان دونوں کی کل قیمت 20 ڈالر سے بھی کم ہو گی۔ روسی فنڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سپوتنک ایم آر این اے ٹیکنالوجی پر مبنی دوسری غیرملکی ویکسینز کے مقابلے میں دو گنا یا اس سے بھی زیادہ سستی ہو گی۔

روسی شہریوں کو یہ ویکسین مفت لگائی جائے گی، اس ویکسین کی خشک شکل میں پیداوار بھی شروع کی جا چکی ہے، اسے دو سے آٹھ ڈگری سینٹی گریڈ تک ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح ویکیسن کی عالمی مارکیٹوں میں ترسیل اور تقسیم آسان ہو گی اور اس کو دور دراز ایسے علاقوں تک بھی پہنچایا جا سکے گا جہاں کا درجہ حرارت غیرمستحکم رہتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here