سگریٹ کی غیرقانونی فروخت سے 77 ارب کی ٹیکس چوری کا انکشاف

69

اسلام آباد: مالیاتی سال 2019-2020 کے دوران سگریٹس کی غیرقانونی فروخت سے پاکستان کو ٹیکس چوری کی وجہ سے 77.3 ارب روپے نقصان ہوا۔ 

پاکستان ٹوبیکو کمپنی (پی ٹی سی) کے نمائندے کے مطابق مارچ 2020 میں پاکستان میں مجموعی طور پر غیرقانونی سگریٹ کے استعمال کی شرح 37.6 فیصد رہی جو گزشتہ سال 31.5 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

انڈسٹری میں ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کئی گھریلو کمپنیوں نے ٹیکس چوری کیے، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے 10 برانڈز سگریٹ کی سمگلنگ میں شامل ہیں۔

ذرائع نے کہا کہ پاکستان میں افراطِ زر میں اضافے کی وجہ سے صارفین نے سگریٹ کی خریداری کم کر دی اور سگریٹ کے استعمال کا حجم سمگل شدہ سگریٹس کی طرف ہونے کی توقع ہے، جس سے حکومت کی آمدن پر منفی اثرات پڑیں گے۔

یہ بھی پڑھیے:

ایف بی آر کے حیدرآباد، ملتان میں چھاپے، کروڑوں کی ٹیکس چوری پکڑی گئی

آزادکشمیر حکومت سے ٹیکس چوری کی تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ

’پاکستان میں یومیہ 1200 کم عمر بچے سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا ہو رہے ہیں‘

پی ٹی سی کے ایک افسر نے کہا کہ اگرچہ حکومت ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے، اس سسٹم کی کامیابی کا انحصار مکمل طور پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ ریٹیل کی سطح پر اس کے نفاذ کو چیک کرنے پر ہے۔

نمائندہ پی ٹی سی نے کہا کہ نان ٹیکس سگریٹس کی فروخت کو کم کرنے کے لیے سگریٹ کے پیک کی قیمت کم سے کم کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیرتیار شدہ ٹوبیکو مصنوعات پر فی کلوگرام 500 روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) بڑھانے کی ضرورت ہے۔

رکن ٹیکس پالیسی ایف بی آر چوہدری محمد طارق نے ٹوبیکو ٹیکسیشن پر پالیسی ڈائیلاگ میں کہا کہ “ہمارا تخمینہ تجویز کرتا ہے کہ غیرقانونی سگریٹس کا شئیر 16 سے 18 فیصد ہے جو ہماری آمدن میں 24 ارب روپے نقصان کا باعث بن رہا ہے”۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here