بلوچستان کے پسماندہ اضلاع کیلئے وفاقی حکومت کا 600 ارب کا پیکج

پیکج کے تحت 16 نئے ڈیم، نیشنل گرڈ اور دیگر ذرائع سے 57 فیصد آبادی کو بجلی فراہمی، 6 لاکھ 40 ہزار بچوں کیلئے فاصلاتی تعلیم، 83 ہزار بچوں کو سکولوں میں داخل کرایا جائے گا

406

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بلوچستان کے پسماندہ ترین جنوبی اضلاع کے لئے بڑے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کر دیا جس کے تحت اُن اضلاع میں بجلی، گیس اور سڑکوں کی تعمیر کے لئے تین سال میں 600 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔

جمعرات کو وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز، وزیر مواصلات مراد سعید اور وزیر دفاعی پیداوار زبیدہ جلال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اسدعمر نے کہا کہ عمران خان پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے معاشرے کے کمزور ترین طبقات کو سہارا دیا ہے، بلوچستان کے جنوبی اضلاع کے لئے پیکیج میں وہاں عوام کی بڑی ضروریات کا خیال رکھا گیا ہے۔

پیکج میں کیا شامل ہے؟

وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ تین سال کے اندر 600 ارب روپے بلوچستان کے 9 پسماندہ ترین اضلاع میں خرچ کئے جائیں گے۔

بلوچستان کے جنوبی اضلاع کے 57 فیصد گھروں کو نیشنل گرڈ سے منسلک کر کے بجلی کی سہولت دی جائے گی، کچھ علاقوں کو قابل تجدید توانائی سے بجلی فراہم کی جائے گی۔

گیس فراہمی کے لئے بھی اقدامات کئے جائیں گے،  جو لوگ مہنگی گیس نہیں خرید سکتے ان کے لئے سماجی تحفظ کے احساس پروگرام کے تحت سہولت دی جائے گی۔

پیکیج کے تحت 16 نئے ڈیم بنائے جائیں گے اور اس سے ایک لاکھ 50 ہزار ایکڑ اراضی سیراب ہوگی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

تعلیم کے لئے وفاقی وزارت تعلیم کے پروگرام کے ذریعے 6 لاکھ 40 ہزار بچوں کو فاصلاتی تعلیم دی جائے گی، جدید تدریسی عمل کو فروغ دیا جائے گا، وسیلہ تعلیم پروگرام کے تحت بھی 83 ہزار بچوں کو سکولوں میں داخلے دیئے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے: 

سندھ، بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کیلئے ہائی سپیڈ براڈ بینڈ سروسز کا اجراء

بلوچستان میں تین شہروں کو ’ماربل سٹی‘ کا خطاب دے دیا گیا

بلوچستان میں صاف پانی کے 12 منصوبوں کیلئے 350.20 ملین روپے مختص

وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ اس پورے پروگرام کا مرکز ان 9 اضلاع کے نوجوان ہیں، اس کے لئے نظم و نسق کا ایک باقاعدہ ڈھانچہ وضع کیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب منصوبوں کو الگ الگ کیا جائے تو ان کا آپس میں ربط نہیں ہوتا اور علاقے کے لوگوں کو فائدہ نہیں ہوتا۔

اسد عمر نے کہا کہ سکیورٹی اور ترقی لازم و ملزوم ہیں، ماضی میں فاٹا اور سوات میں ترقی اور عوام کی سہولت کے لئے کچھ نہیں کیا گیا، روزگار اور سہولیات اگر ان علاقوں کے نوجوانوں کو بھی فراہم کی جائیں تو وہ بھی دوسرے علاقوں سے بہتر کام کر کے دکھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کسان کو اپنی فصل کا پورا معاوضہ اِسی صورت مل سکتا ہے جب اس کی اجناس کی وہیں پر ویلیو ایڈیشن ہو، جب تک وہاں سڑکیں نہیں بنیں گی تو لوگوں کو اپنی اجناس منڈیوں تک لے جانے کیلئے رسائی حاصل نہیں ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا کے انضمام شدہ اضلاع کے لئے بھی ترقیاتی پیکیج دیا گیا ہے، سندھ حکومت کے ساتھ مل کر کراچی کے لئے بھی کام کیا جا رہا ہے، ہمارا اگلا قدم بلوچستان کے شمالی اضلاع کے لئے مربوط حکمت عملی پر کام کرنا ہے، گلگت بلتستان کے لئے بھی مربوط ترقیاتی پیکیج دیا جائے گا۔

اپوزیشن کو ہدف تنقید بناتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ پی ڈی ایم کا بیانیہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، ہمارے دروازے کھلے ہیں، پاکستان کے عوام کے جس مسئلہ پر بھی بات کرنا چاہیں ہم تیار ہیں لیکن ہم این آر او نہیں دیں گے۔

’وہ کہتے ہیں کہ ہم این آر او مانگ نہیں رہے، اگر این آر او نہیں مانگ رہے تو محاذ آرائی کس بات کی ہے؟ ایف اے ٹی ایف پر قانون سازی کے دوران بھی یہ چاہتے تھے کہ نیب کے قانون میں 34 ترامیم کی جائیں تاکہ جو لوگ کرپشن میں پکڑے گئے ہیں انہیں چھڑایا جا سکے۔‘

اسد عمر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن حکومت کے جانے کی باتیں کر کے اپنا وقت برباد کرتی رہی ہے، حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔

اس موقع پر وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ بلوچستان میں ایم 70 اور ایم 22 سمیت تین ہزار 83 کلو میٹر طویل سڑکیں بنانے جا رہے ہیں، بلوچستان میں اس وقت وزارت مواصلات کے منصوبوں کی لاگت 250 ارب روپے ہے۔

وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی ملکی ترقی کا باعث بنے گی، معاشی و سماجی ترقی سے عوام کا احساس محرومی دور کریں گے اورآگے بڑھنے کے یکساں مواقع سمیت ترقی کے ایک نئے عہد کا آغاز ہوگا۔

وفاقی وزیر دفاعی پیداوار محترمہ زبیدہ جلال نے کہا کہ 47 سال بعد وزیراعظم عمران خان نے ضلع تربت کا دورہ کیا، ان سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو آئے تھے جو مقامی لوگوں سے ملے تھے، باقی وزرائے اعظم ہیلی کاپٹر کے دورے کر کے واپس چلے جاتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں بلوچستان کے 9 اضلاع کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، یہ منصوبے ان علاقوں کے لوگوں کی زندگیاں تبدیل کرنے کے لئے ہیں، فریم ورک کے لئے ہمیں دو مہینے لگے ہیں، اسد عمر اور ان کی ٹیم کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے دن رات ملکر یہ پیکیج تیار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت دفاعی پیداوار نے بھی بلوچستان پیکیج میں کچھ حصہ ڈالا ہے، آئندہ ہفتے تک وزیراعلیٰ بلوچستان کے ساتھ ایم او یو سائن کرنے جا رہے ہیں، پہلا شپ یارڈ 74 سال کے بعد بلوچستان میں بنانے جا رہے ہیں، ایکویٹی بنیادوں پر یہ معاہدہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے تحفظات تھے کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو وہ حیثییت ملنی چاہئے جو باقی صوبوں کے نوجوانوں کو ملتی ہے، اس لئے نوجوانوں کی تربیت پر ہم خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں اور موجودہ حکومت میں واضح فرق یہ ہے کہ پہلی دفعہ بلوچستان کے پسماندہ ترین علاقوں کے لئے میگا پراجیکٹس لائے جا رہے ہیں، وزیراعظم عمران خان تمام صوبوں کی یکساں ترقی چاہتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here