بھارت : ریلائنس کے ساتھ معاہدہ روکنے کے لیے ایمازون کا فیوچر ریٹیل پر انسائڈ ٹریڈنگ کا الزام

امریکی ای کامرس کمپنی اپنے بزنس پارٹنر کو 2019ء میں کیے گئے ایک معاہدے کی بنا پر اپنے حریف ریلائنس کا حصہ بننے سے روکنا چاہتی ہےمگر فیوچر ریٹیل کیمطابق مذکورہ معاہدے کا اطلاق اس کے مخصوص یونٹ پر ہوتا ہے سب پر نہیں

266

نئی دہلی : امریکی ای کامرس کمپنی ایمازون نے اپنے بزنس پارٹنر فیوچر ریٹیل لمیٹڈ پر انسائڈ ٹریڈنگ کا الزام لگا کر بھارت کے مارکیٹ ریگولیٹر کو تحقیقات کی درخواست دے دی ہے۔

ایمازون کے اس اقدام کا مقصد فیوچر ریٹیل لمیٹڈ کو  اپنے حریف ریلائنس انڈسٹریز کا حصہ بننے سے روکنے کی ایک کوشش کرنا ہے۔

ایمازون کافی عرصے سے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا پر زور ڈال رہی ہے کہ وہ ریلائنس کی جانب سے فیوچر گروپ سے ریٹیل، لاجسٹکس اور دوسرے اثاثہ جات کی خریداری کے لیے کی گئی 3.4 ارب ڈالر کی ڈیل کا جائزہ لے۔

ایمازون کا کہنا ہے کہ اس نے 2019ء میں فیوچرریٹیل لمیٹڈ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت فیوچر گروپ کےاثاثہ جات کچھ مخصوص پارٹیوں بشمول ریلائنس انڈسٹریز کو فروخت نہیں کیے جا سکتے۔

مگر فیوچر ریٹیل کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ایمازون کے ساتھ کیا گیا معاہدہ گروپ کے ایک اور یونٹ کے حوالے سے ہے اور اس کا ریلائنس کو فروخت کے لیے پیش کیے جانے والے یونٹ سے کوئی تعلق نہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

پاکستان میں سال 2020 میں ای کامرس شعبے کی زبردست ترقی

امریکی، سعودی کمپنیوں کا مکیش امبانی کی کمپنی میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا فیصلہ

فیوچر گروپ بھارت میں سپر سٹورز اور اشیائے خورونوش کے سٹورز چلاتا ہے اور بھارت بھر میں اس کے ڈیڑھ ہزار آؤٹ لیٹس ہیں، ریلائنس کے ساتھ ڈیل کے حوالے سے اس کا کہنا ہے کہ کورونا کے باعث اس کے کاروبار کو شدید نقصان پہنچا ہے لہٰذا اپنے سٹیک ہولڈرز کے بہترین مفاد میں قدم اُٹھانا اس کے لیے بہت ضروری ہے۔

دونوں بزنس پارٹنرز ( ایمازون اور فیوچر ریٹیل لمیٹڈ ) کے درمیان اس معاملے کو لے کر کشیدگی انتہا کو پہنچ چکی ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ بھارت کے مارکیٹ ریگولیٹرز اور عدالتیں کس کے پلڑے میں اپنا وزن رکھیں گی۔

اُدھر فیوچرریٹیل نے ایمازون کو مارکیٹ ریگولیٹر کا دروازہ کھٹکھٹا کر ریلائنس کے ساتھ اس کی ڈیل کو روکنے کے اقدام سے باز رکھنے کے لیے دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here