‘قابل تجدید ذرائع سے بجلی بنا کر پاکستان پانچ ارب ڈالر کی بچت کر سکتا ہے‘

فوسل فیولز سے بجلی کا حصول مسابقتی نہیں رہا، آئندہ دس سالوں میں ان کا بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال مالی طور پر بلکل سود مند نہیں رہے گا، قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کی تعمیر کے لیے پاکستان کی مدد کو تیار ہیں : ورلڈ بنک

350

اسلام آباد:  عالمی بینک کی جانب سے حال ہی میں جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے ذرائع کے استعمال سے پاکستان کو اگلے 20 سالوں میں پانچ ارب ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی وسائل کی یہ بچت ایندھن کی مد میں اخراجات میں کمی کی وجہ سے ہو گی، پاکستان کو شمسی اور ہوا سے بجلی بنانے کے منصوبوں پر کام تیز اور 2030ء تک توانائی کی مجموعی پیداوار میں ان ذرائع سے حاصل شدہ بجلی کا حصہ 30 فیصد تک لے جانا چاہیے۔

عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان ناجی بن حسائن کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ”اس اقدام سے پاکستان کو طویل المدتی معاشی فوائد حاصل ہوں گے اور ملکی توانائی کی ضروریات کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا، ہم سستی، قابل اعتماد توانائی کے حصول کے لیے پاکستان کی مدد کو تیار ہیں۔”

یہ بھی پڑھیے:

ایل پی جی، سی این جی کے بعد بجلی بھی مہنگی

صنعتوں کیلئے سستی بجلی، بلوں کی مد میں 30 ارب کا نقصان، کیا کچھ فائدہ بھی ہو گا؟

ورلڈ بنک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوسل فیولز کے ذریعے بجلی کی پیداوار آج کے دور میں مسابقتی نہیں رہی لہٰذا انہیں ریٹائر کردینا چاہیے کیونکہ یہ اگلے 10 سالوں میں معاشی طور پر بالکل بھی سودمند نہیں رہیں گے، فضائی آلودگی کا باعث بننے والے مادوں کے اخراج کے باعث بھی ان کا استعمال دانش مندانہ کام نہیں ہے۔

اس رپورٹ میں قابل تجدید اور نا قابل تجدید ذرائع سے بجلی کی فی گھنٹہ پیداوار پر اُٹھنے والے اخراجات کا جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے جس میں یہ بات سامنے آئی کہ قابل تجدید ذرائع سے حاصل ہونے والی بجلی روایتی ذرائع سے حاصل شدہ بجلی سے کئی گنا سستی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان ماحول کے تحفظ کے ساتھ  توانائی کی کم قیمت پر دستیابی یقینی بنانا چاہتا ہے تو اسے فوری طور پر قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے قیام سے متعلقہ امور جیسا کہ سرمایہ کاری و انتظامی معاملات میں تیزی لانی چاہیے۔

اس حوالے سے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کے مینجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر خواجہ رفعت حسین کا کہنا ہے کہ متبادل اور قابل تجدید توانائی پالیسی 2019ء میں طے کیے گئے اہداف کے حصول کے لیے ہمیں ترسیلی نظام میں بڑی سرمایہ کاری کرنا پڑے گی۔

 ’اُمید ہے کہ سیاسی عزم، تکنیکی صلاحیت میں سرمایہ کاری، موجودہ آپریٹرز اور سرمایہ کاروں کی جانب سے لچک کے اظہار کی بناء پر پاکستان توانائی کے حصول کے لیے اپنے خود کے ذرائع سے مستفید ہونے کے قابل ہوجائے گا۔’

ورلڈ بنک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کو لوڈشیڈنگ اور اس کے نتیجے میں توانائی کی ہنگامی خریداری جیسے حالات کو دوبارہ پیدا ہونے سے روکنے کے لیے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے قیام پر فوری طور پر کام شروع کر دینا چاہیے کیونکہ ان کی تکمیل میں آنے والے کئی سال لگ جائیں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here