کورونا، معاشی بدحالی نے بھارت کی ‘سلیکون ویلی’ کو ویران کر دیا

آئی ٹی انڈسٹری کا مرکز سمجھا جانے والا بنگلور کورونا سے بُری طرح متاثر ہوا ہے، یہاں مہلک وبا نے تین لاکھ پینتالیس ہزار افراد کو اپنا شکار بنایا ہے جس میں سے چار ہزار موت کے منہ میں جاچکے ہیں، شہر کے پندرہ فیصد کاروباراور ایک لاکھ چالیس ہزار سٹورز بند ہوگئے ہیں

428

بنگلورو: کوورنا وائرس  نے بھارت کی سلیکون ویلی میں ماحول کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔

بھارت کے ٹیکنالوجی کے حوالے سے مرکزی شہر بنگلورو میں اب دکانیں تیزی سے خالی ہونے لگی ہیں اور کبھی پُرہجوم رہنے والے شراب خانے اب ویران پڑے ہیں۔

چہل پہل اور سرگرمی سے بھرپور اس علاقے میں واقع شورومز، ریستوران اور سافٹ وئیر کمپنیاں اب خالی نظر آتی ہیں اور ان میں سے اکثر کے اندرونی حصے مٹی سے اٹے ہوئے ہیں۔

کورمانگلا Koramangala جو آئی ٹی کی صنعت کے حوالے سے مشہور اس شہر ( بنگلورو) کا ایک ایسا علاقہ ہے جو نوجوان پروفیشنلز اور کالجوں کے طلباء کی رہائش کے حوالے سے مشہور ہے اور یہاں پُرتعیش اپارٹمنٹس، بنگلے اور کمرشل عمارات واقع ہیں وہ طویل لاک ڈاؤن کے باعث اپنی رونق کھو چکا ہے۔

کرایوں میں اضافے کی وجہ سے بہت سی کمپنیوں نے یہاں سے اپنے دفاتر سستے علاقوں میں منتقل کر لیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

انسانیت کیلئے بڑا دن، کورونا کیخلاف 90 فیصد تک تحفظ فراہم کرنے والی ویکسین تیار

پاکستان میں آئی ٹی کے بڑے منصوبے کیلئے جنوبی کوریا قرض دینے کو تیار

واضح رہے کہ بنگلورو جیسے بنگلور بھی کہا جاتا ہے کورونا وائرس سے بُری طرح متاثر ہوا ہے، یہاں اب تک مہلک وبا کے تین لاکھ پینتالیس ہزار کیسز سامنے آئے ہیں اور چالیس ہزار افراد اس جان لیوا بیماری کے ہاتھوں موت کے منہ میں چلے گئے ہیں۔

اگرچہ مودی حکومت نے کورونا کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی صورت حال سے کاروباروں کو نکالنے کے لیے 266 ارب کے امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا مگر اس کا مانگ اور پیداواری یونٹس کی مشکلات پر کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔

شہر کی معاشی صورتحال سے متعلق کرناٹک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا کہنا ہے کہ بنگلور کے 15 فیصد کاروبار اور ایک لاکھ  چالیس ہزار چھوٹے بڑے سٹور بند ہو چکے ہیں۔ اگرچہ اب صورتحال میں کچھ بہتری آنا شروع ہوئی ہے مگر بحرانی کیفیت تب تک باقی رہے گی جب تک وبا کا وجود باقی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here