وزارت کامرس نے نئی پانچ سالہ تجارتی پالیسی وزیراعظم کو پیش کر دی

اگرچہ حکومت گزشتہ دو سال سے برآمدات کا ہدف پورا کرنے میں ناکام رہی ہے البتہ وزارتِ تجارت 2025ء تک ملکی برآمدات کو سالانہ 37 ارب ڈالر تک لے جانے کی خواہش مند ہے

273

اسلام آباد: وزارتِ تجارت نے وزیراعظم عمران خان کو نئی پانچ سالہ تجارتی پالیسی (2020ء تا 2025ء) پیش کر دی۔

سٹریٹجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک (ایس ٹی پی ایف) کی وفاقی کابینہ سے منظوری سے قبل پالیسی کے مسودے کو وزیراعظم کے ساتھ ان کے فیڈبیک کے لیے شئیر کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق نئی تجارتی پالسی میں مختلف شعبوں سے متعلق مسائل کے حل کے لیے سہ ادارہ جاتی نظام ( three-tier institutional mechanism) اپنانے کی تجویز دی گئی جس کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ نئے طریقہ کار کو اپنانے سے برآمدکنندگان کو ان کے مسائل حل کرنے کے لیے سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

اس ضمن میں وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ایک اعلیٰ اختیاراتی بورڈ بھی قائم کیا جائے گا، یہ بورڈ ملکی برآمدات کی ترقی کے لیے سال میں دو بار پالیسوں کی منظوری کے لیے اجلاس منعقد کرے گا۔

بورڈ کے دیگر اراکین میں وزرائے خزانہ، تجارت، فوڈ سکیورٹی، توانائی اور پاور ڈویژن سمیت گورنر سٹیٹ بینک اور دیگر متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام شامل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے:

بعد از کورونا پاکستانی برآمدات جنوبی ایشیا میں حریف ممالک پر سبقت لے گئیں، مگر کیسے؟

کووڈ۔19: 2021ء کے اختتام تک مجموعی عالمی پیداوار کو 12 کھرب ڈالر نقصان کا خدشہ

دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ حکومت گزشتہ دو سال سے برآمدات کا ہدف پورا کرنے میں ناکام رہی ہے البتہ وزارتِ تجارت 2025ء تک ملکی برآمدات کو سالانہ 37 ارب ڈالر تک لے جانے کی خواہش مند ہے۔

پالیسی بورڈ سے قطع نظر وزیر تجارت کی زیرصدارت ایک اور ایگزیکٹو کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی، متعلقہ وفاقی سیکرٹریز اور چئیرمین ایف بی آر اس کمیٹی کے اراکین میں شامل ہوں گے جو برآمدکنندگان کے مسائل کو روزانہ کی بنیاد پر دیکھیں گے اور ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے، یہ کمیٹی پالیسی اقدامات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ماہانہ بنیادوں پر اجلاس منعقد کرے گی۔

نئی تجارتی پالیسی کے مسودے میں 12 سے 16 شعبوں سے متعلق کونسلز یا بورڈ تشکیل دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے، یہ کونسلز یا بورڈ مخصوص شعبہ جات سے متعلق تجارتی پالیسیوں پر نظرثانی کریں گی اور نئی پالیسی کیلئے تجاویز مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی مصنوعات کی تشہیر کے لیے مراعات اور متبادل منڈیاں بھی تلاش کریں گے۔

چمڑے، سرجیکل، کھیلوں کے سامان، کارپٹ، چاول اور کٹلری کے علاوہ غیررسمی اور ترقیاتی سیکٹر میں انجنئیرنگ مصنوعات، فارماسیوٹیکلز، آٹو پارٹس، پروسیسڈ فوڈ اور بیوریجز، فٹ وئیر، جیولری، کمیکلز، میٹ اینڈ پولٹری، سمندری خوراک، ماربل اور گرینائٹ کے شعبے ایس ٹی پی ایف 2020ء تا 2025ء کے تحت شامل ہوں گے۔

گزشتہ دہائی میں کامرس ڈویژن نے 2009ء تا 2012ء، 2012ء تا 2015ء اور 2015ء تا 2018ء تک کیلئے تجارتی پالیسیاں بنائی تھیں لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر برآمدات کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ان میں سے کسی ایک بھی پالیسی پر کامیابی سے عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here