’سٹیٹ بینک ایس ایم ایز، خواتین انٹرپرینیور کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے‘

ڈیجیٹل فنانشل سروسز پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں، ایسا نظام بنا رہے ہیں جس کے ذریعے چند سیکنڈز میں ادائیگی ہو جائے، گورنر سٹیٹ بینک رضاباقر کی ایل سی سی آئی میں گفتگو

123

لاہور: سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کاروباری برادری کے ساتھ تعاون میں اضافہ کرنا چاہتا ہے اور ایسے شعبوں جن کو پہلے توجہ نہیں دی گئی جیسے ایس ایم ایز اور خواتین انٹرپرینیور کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے۔

گزشتہ روز گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان ڈاکٹر رضا باقر نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) کا دورہ کیا اور صدر لاہور چیمبر میاں طارق مصباح، سینئر نائب صدر ناصر حمید خان، نائب صدر طاہر منظور چوہدری و دیگر  سے ملاقات کی۔

رضا باقر نے کہا کہ سٹیٹ بینک ڈیجیٹل فنانشل سروسز پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کر رہا ہے اور ایسا نظام لا رہا ہے جس کے ذریعے چند سیکنڈ میں ادائیگی ہو جائے۔

ڈاکٹر رضا باقر نے سٹیٹ بینک کے اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں کورونا وباء سے متاثرہ کاروباروں کی سہولت کے لئے سٹیٹ بینک نے سود کی شرح میں چھ فیصد تک کمی کی، ایکسچینج ریٹ اب دو طرفہ ترتیب سے چل رہا ہے۔

”ہم نے تقریباََ 650  ارب روپے کی اصل ادائیگیاں ملتوی کی ہیں جن میں سے 90 فیصد فائدہ اٹھانے والے چھوٹے کاروباری (مائیکرو فنانس بینکوں کے قرض لینے والے) ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک الیکٹرانک کریڈٹ انفارمیشن بیورو (ای سی آئی بی) سے متعلق لاہور چیمبر کے مطالبات پر غور کر رہا ہے اور اس پر پالیسی کا اعلان آنے والے چند دنوں میں کیا جائے گا۔

رضا باقر نے کہا کہ کاروبار کو ان کی مارک اپ ادائیگیوں میں معاونت کے لئے 200 ارب روپے کے قرضوں کی تنظیم نو ہوئی، وزیر اعظم روزگار فنانس سکیم کے تحت 232 ارب روپے ملازمین کی تنخواہوں کے لئے دیئے گئے ہیں۔

گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ پاکستان کریڈٹ گارنٹی کارپوریشن قائم کی جا رہی ہے جس کے ذریعے بینک ایس ایم ایز کو قرض دینے پر 60 فیصد رسک کور حاصل کریں گے، مارک اپ سبسڈی اسکیم کے تحت، چھوٹے مکانوں کو 3 سے 5 فیصد تک مالی اعانت فراہم کی جائے گی۔

اس موقع پر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر نے کہا کہ ایسے بہت سارے کاروبار ہیں جو موجودہ لیکویڈیٹی بحران کی وجہ سے وقت پر اپنے بینک ادائیگیوں کو ختم نہیں کرسکتے ہیں، ان کے نام الیکٹرانک کریڈٹ انفارمیشن بیورو (ای سی آئی بی) میں شامل ہیں۔ اس سے ان کو کسی مالیاتی ادارے سے قرضہ حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہم اسٹیٹ بینک سے جون 2021ء تک اس شرط میں نرمی کی درخواست کرتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here