صنعتوں کیلئے سستی بجلی، بلوں کی مد میں 30 ارب کا نقصان، کیا کچھ فائدہ بھی ہو گا؟

’بجلی کی قیمت میں کمی سے صنعتی بحالی، برامدات، محاصل اور روزگار میں اضافہ ہو گا، کورونا کے اثرات زائل کرنے میں مدد ملے گی، کاروباری سرگرمیوں میں تیزی سے کئی گنا زیادہ فائدہ ہو گا‘

660

اسلام آباد: چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) سمیت صنعتکاروں نے بجلی کی قیمت میں کمی کے حکومتی فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے صنعتی بحالی، پیداواری اخراجات میں کمی اور برآمدات کے فروغ میں مدد ملے گی اور مہنگائی میں بھی کمی آئے گی۔

ایس ایم ایز، کاروباری برادری اور مختلف کاروباری تنظیموں کے نمائندوں نے صنعتی شعبہ کے لئے وزیراعظم کے ریلیف پیکج کے بارے میں کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ صنعتی شعبہ کے لئے مراعات کا تسلسل جاری رکھے۔ انہوں نے پیداواری اخراجات میں کمی کے لئے کاروباری آسانیوں میں مزید اضافہ کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ریفنڈز کی جلد از جلد ادائیگی سے صنعتی شعبہ کے مالی مسائل کو کم کیا جا سکتا ہے جبکہ کاروباروں اور صنعتوں کے لئے خام مال کی لچک دار درآمدی پالیسی اور سستی توانائی پالیسی سے ملک میں صنعتی سرگرمیوں کے فروغ اور برآمدات کے اضافہ میں مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔

پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پریگما) کے چیئر مین اعجاز کھوکھر نے کہا کہ برآمدات کے فروغ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے مطلوبہ اہداف کے حصول کے لئے بجلی کی قیمتوں میں کی جانے والی کمی تین سال تک برقرار رکھی جائے۔ یہ ایک مثبت اقدام ہے جس سے پیداواری اخراجات میں مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیے:

حکومت کا صنعتی شعبے کیلئے سستی بجلی کے پیکج کا اعلان

پنجاب حکومت کا حفیظ سینٹر کے تاجروں کیلئے اربوں روپے کا ریلیف پیکج

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر شعبان خالد نے کہا کہ حکومت کے فیصلہ سے پیداواری اخراجات میں کمی ہوگی اور بین الاقوامی منڈیوں میں برآمدکنندگان بہتر مقابلہ کر سکیں گے۔

پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن ( پی ایچ ایم اے) نے بھی توانائی کی قیمتوں میں کمی کے حکومتی فیصلے کو سراہا ہے جبکہ پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل محمد علی نے بھی پاور ریلیف پیکج کے بارے میں کہا ہے کہ اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں مدد ملے گی۔

ادھر وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان (ایف پی سی سی آئی) کے یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) نے کہا ہے کہ تین سال تک صنعتوں کے لئے بجلی سستی کرنے سے اس شعبہ میں نئی جان پڑ جائے گی۔ اس سے پیداوار، برامدات، محاصل اور روزگار میں اضافہ ہو گا اور کورونا وائرس کے اثرات زائل کرنے میں مدد ملے گی۔

یو بی جی کے چئیرمین افتخار علی ملک نے کہا کہ پاکستان میں حریف ممالک سے 25 فیصد مہنگی بجلی کی وجہ سے بین الاقوامی منڈی میں ان ممالک سے مسابقت مشکل تھی، اب حکومت کو بجلی کے بلوں میں مد میں تقریباً 30 ارب روپے کا نقصان تو ہو گا لیکن کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آنے سے کئی گنا زیادہ فائدہ بھی ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکس سے متعلق امور بھی بہتر بنائے جبکہ نجی شعبہ اپنی مصنوعات کا معیار بہتر بنائے تاکہ عالمی منڈی میں دوبارہ قدم جمائے جا سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت 33 لاکھ ایس ایم ایز ہیں جو زرعی شعبہ کو چھوڑ کر 78 فیصد روزگار فراہم کر رہی ہیں، برامدات میں اس شعبہ کا حصہ 25 فیصد جبکہ جی ڈی پی میں 30 فیصد ہے مگر اس پہلے کبھی وہ اہمیت نہیں دی گئی ہے جو اب دی جا رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here