سات سالوں میں سی پیک منصوبوں پر کتنے ارب ڈالر سرمایہ کاری ہوئی؟

انفراسٹرکچر اور بجلی کے منصوبوں سے روزگار کے 70 ہزار براہ راست مواقع پیدا ہوئے، پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ میں دو فیصد اضافہ ہوا: چینی وزارت خارجہ

557

بیجنگ: چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ سات سال قبل شروع ہونے والے چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) کے کئی منصوبوں میں بڑی پیشرفت ہوئی ہے، 25 ارب ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری سے پاکستان میں کئی منصوبوں کا آغاز ہوا اور کئی ایک مکمل ہو چکے ہیں۔

اپنی معمول کی بریفنگ کے دوران ترجمان وانگ وین بن نے خاص طور پر لاہور میں اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کا تذکرہ کیا جو پاکستان میں بجلی سے چلنے والی سرکاری سطح پر ٹرانسپورٹ کے پہلے پراجیکٹ کے طور پر سامنے آیا ہے۔

گزشتہ ماہ اورنج لائن منصوبہ آپریشنل ہوا جس کے باعث پاکستان سب وے دور میں داخل ہو گیا، یہ منصوبہ اپنے مقررہ وقت سے قبل مکمل کئے گئے منصوبوں میں سے ایک ہے۔

ترجمان نے کہا کہ سی پیک کے تحت جو منصوبے مکمل کئے گئے وہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا ایک پائلٹ پراجیکٹ ہے، جسے چین کے صدر شی جن پنگ کی ولولہ انگیز قیادت میں شروع کیا گیا۔ اس سارے تصور کا بنیادی مقصد پاکستان میں انفراسٹرکچر اور بجلی کی فراہمی میں اضافہ کرنا ہے، جس سے روزگار کے متعدد مواقع پیدا ہوئے اور پاکستان کی کل قومی پیداوار میں اضافہ کا باعث بنا۔

یہ بھی پڑھیے: 

قومی اسمبلی: سی پیک اتھارٹی بل پیش، اپوزیشن کو اعتراضات

سی پیک کے تحت 8 زرعی تحقیقاتی مراکز قائم کیے جائیں گے

ماضی کا ’زندہ انسانوں کا قبرستان‘، اب خصوصی اقتصادی زون میں بدل رہا ہے

انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر اور بجلی کی فراہمی کے منصوبوں سے روزگار کے 70 ہزار براہ راست مواقع پیدا ہوئے اور مجموعی طور پر پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ میں ایک سے دو فیصد کا اضافہ ہوا۔

افغانستان کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ گوادر کے راستے خوراک اور دوسری ضروری اشیاء افغانستان درآمد کر رہا ہے، سی پیک سے نہ صرف دونوں پڑوسی ممالک میں ترقی میں اضافہ ہوا بلکہ اس سے علاقائی رابطہ اور خوشحالی کے مقاصد حاصل کرنے میں بھی کامیابی حاصل ہوئی۔

ترجمان نے کہا کہ اس سال کے وسط سے گوادر بندرگاہ پر 20 ہزار ٹن وزن کی کارگو شپنگ کا آغاز ہوا، جس کے ذریعے گندم، چینی اور کھاد افغانستان پہنچی، اس طرح روزگار کے ایک ہزار مواقع پیدا ہوئے۔ دونوں ممالک کی قیادت کے اتفاق رائے سے شروع کئے گئے۔

 سی پیک منصوبے کے بارے میں انہوں نے مزید کہا کہ چین اس منصوبے کی حمایت جاری رکھے گا اور دونوں ممالک اپنی قیادت کے ویزن کے مطابق اس پر عملدرآمد جاری رکھیں گے۔ موجودہ منصوبوں میں صنعت، زراعت اور زندگی کی بنیادی سہولتوں میں تعاون پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

ترجمان نے پاکستان کی اعلی قیادت کی طرف سے سی پیک منصوبوں کی تعریف کو خوش آمدید کہا۔ گزشتہ ماہ بھی چین نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ایک انٹرویوکو سراہا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سی پیک دراصل بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا وژنری پائلٹ پراجیکٹ ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ایک انٹرویو کے دوران سی پیک کے منصوبوں کے باعث پاکستان کے بہتر مستقبل کی امید ظاہر کی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ سی پیک کی وجہ سے پاکستان جغرافیائی، معاشی، تذویراتی حب کے طور پر ابھر رہا ہے۔

تھرڈ پارٹی یا دیگر ممالک کی سی پیک میں شمولیت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ چین دوسرے ممالک کی سی پیک اور بی آر آئی کے منصوبوں میں شمولیت کا خیرمقدم کرے گا کیونکہ اس سے علاقائی اور عالمی سطح پر ترقی اور استحکام آئے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here