فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ: آئل مارکیٹنگ کمپنی ٹوٹل کا پاکستان میں کاروبار شدید متاثر

گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور صدر ایمانوئل میکرون کے اسلامو فوبیا پر مبنی بیانات کی وجہ سے عوام نے فرانسیسی آئل کمپنی کے فلنگ سٹیشنز سے خریداری بند کردی، متعدد پمپ مالکان کا بھی ٹوٹل کیساتھ معاہدے ختم کرنے کا اعلان

534

لاہور : فرانسیسی جریدے چارلی ہیبڈو  کی جانب سے توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ اشاعت اور صدر ایمانوئل میکرون کے اسلاموفوبیا پر مبنی بیانات کے بعد اسلامی دنیا میں فرانس کی مصنوعات کا بھر پور بائیکاٹ جاری ہے۔

پاکستان میں بھی فرانس کے خلاف احتجاج اور اس کی مصنوعات کا بائیکاٹ جاری ہے اور اسی کے تحت ٹوٹل پارکو پاکستان لمیٹڈ کا کاروبار بھی شدید متاثر ہوا ہے، عوام نے فرانسیسی کمپنی کے پٹرول پمپوں سے پٹرولیم مصنوعات خریدنے سے احتراز برتنا شروع کر دیا ہے۔

لاہور کے علاقے جوہرٹاؤن میں واقع کمپنی کے ایک پٹرول پمپ کے ملازم نے پرافٹ اردو کو بتایا کہ فرانس کے بائیکاٹ کی مہم شروع ہونے کے بعد سے اس فلنگ سٹیشن پر پٹرول اور ڈیزل کی فروخت میں 60 فیصد تک کمی آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پٹرول پمپ انتظامیہ عوام کو اپنی جانب راغب کرنے کےلیے بڑی تعداد میں پمفلٹ، براؤشرز اور دیگر مواد شائع کروا چکی ہے جس میں فرانس اور فرانسیسی صدر کے بیان کی بھرپور مذمت کی گئی ہے، اس کے علاوہ ہم نے عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر پٹرول پمپ کو جھنڈیوں اور برقی قمقموں سے بھی سجایا تھا۔

 لاہور کے ظہورالہی روڈ پر واقع ٹوٹل کے پٹرول پمپ کو بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہے، وہاں کام کرنے والے ایک ملازم نے بتایا کہ آئل چینج اور لبری کینٹس ( گاڑیوں کا انجن آئل وغیرہ) کی سیل کا پمپ کی کمائی میں بڑا حصہ ہے مگر فرانس کے بائیکاٹ کی وجہ سے اس ضمن میں فلنگ سٹیشن کی آمدن میں بہت فرق پڑا ہے۔

”آپ بلا جھجک یہ کہہ سکتے ہیں کہ بائیکاٹ کی مہم کے بعد سے ہمارے لبری کینٹس کی سیل آدھی رہ گئی ہے، ہم عوام کو یہ بات سمجھانے کی اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ اگر ٹوٹل کی مصنوعات کا بائیکاٹ جاری رہا تو اس کا اثر مقامی کاروبار پر بھی پڑے گا۔”

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نبی پاک ﷺ سے محبت کرنے والے اور مسلمان ہیں اور ہم عوام کو اس چیز کا شعور و آگہی دینے کے لیے پملفٹ اور براؤشرز بھی بڑی تعداد میں تقسیم کر رہے ہیں.

اُدھر فرانس کے خلاف احتجاج کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے، ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق اس میں حصہ ڈال رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ جہاں عوام فرانسیسی مصنوعات اور اس کی کمپنی کے پٹرول پمپس کا بائیکاٹ کیے ہوئے ہیں، وہیں ٹوٹل پارکو کے پمپ مالکان بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔

بنوں کے نصیر آباد ڈی آئی خان روڈ پر واقع ٹوٹل کے فلنگ سٹیشنز کے مالکان حسین احمد اور معظم احمد نے ٹوٹل پارکو کے ساتھ کاروبار ختم کر دیا ہے۔

اس حوالے سے پرافٹ اردو سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ”ہم ایک ایسی کمپنی کے ساتھ کاروبار نہیں کر سکتے جس کا تعلق اس ملک کے ساتھ ہو جو ہمارے نبی پاک ﷺ کی توہین کرے۔”

ان کا کہنا تھا کہ فی الحال وہ غور کر رہے ہیں کہ اب کس آئل مارکیٹنگ کمپنی کے ساتھ معاہدہ کرنا ہے۔

مگر یہ صرف حمزہ اور معظم احمد ہی نہیں بلکہ ایسے کئی پٹرول پمپ مالکان ہیں جو ٹوٹل کے ساتھ کاروبار ختم کرنے بارے سوچ رہے ہیں۔

ایسے ہی ایک پٹرول پمپ کے مالک نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اخلاقی اور مذہبی بنیاد پر ہمارے لیے ٹوٹل کے ساتھ کاروبار کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے لہذا ہم پی ایس او کے ساتھ کاروبار شروع کرنے جا رہے ہیں۔

ٹوٹل پارکو پاکستان لمیٹڈ آئل مارکیٹنگ کمپنی ایشیا پیسیفک ریجن میں فرانسیسی کمپنی ٹوٹل کی سب سے بڑی پارٹنر ہے، ٹوٹل ایس ای فرانس کی کمپنی ہے جس کا قیام 1924ء میں عمل میں آیا اور یہ دنیا میں سات بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں میں سے ایک ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here