حکومت کا صنعتی شعبے کیلئے سستی بجلی کے پیکج کا اعلان

چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو 50 فیصد، بڑی صنعتوں کو 25 فیصد رعایت ملے گی، وبا کی دوسری لہر کے تناظر میں کاروبار اور صنعتیں بند نہیں کریں گے: وزیراعظم عمران خان

408

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یکم نومبر سے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو اضافی بجلی پر50 فیصد اور بڑی صنعتوں کو 25 فیصد رعایت ملے گی۔ وبا کے دوسرے مرحلہ کے تناظر میں کاروبار اور صنعتیں بند نہیں کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلہ میں 25 فیصد مہنگی بجلی فراہم کی جاتی ہے جس کے باعث ہم برآمدات کے شعبہ میں اپنے ہمسایہ ممالک کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ ماضی میں بجلی بنانے کیلئے مہنگے معاہدے کئے گئے جس کے باعث بجلی مہنگی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ مہنگی بجلی کی وجہ سے صنعتوں کو مشکل صورتحال کا سامنا ہے، ملکی برآمدات میں مہنگی بجلی کے باعث کمی واقع ہوئی ہے اور یہ 25 ارب ڈالر سے 20 ارب ڈالر پر آ گئیں، برآمدات زیادہ ہوں تو اس سے دولت کی فراوانی اور ملکی معیشت مستحکم جبکہ روپے کی قدر مستحکم ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

چین، بھارت کے بجائے بڑے عالمی برانڈز پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری کا رُخ کیوں کر رہے ہیں؟

پاکستانی برآمدات قبل از کورونا کی صورتحال پر واپس، اکتوبر میں کتنے ارب ڈالر رہیں؟

عمران خان نے کہا کہ صنعتی عمل کی ترقی سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، اس شعبہ کیلئے ایک پیکج تیار کیا ہے، حکومت نے پہلے بھی برآمدکنندگان کو پیکیج دیا ہے، برآمدات میں اضافہ کیلئے تمام ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس پیکیج کے تحت یکم نومبر سے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو ملنے والی اضافی بجلی پر 50 فیصد جبکہ بڑی صنعتوں کیلئے اضافی بجلی پر 25 فیصد رعایت ہو گی، صنعتی شعبہ کیلئے بجلی کا کوئی پیک آور نہیں ہو گا، تمام صنعتوں کو اگلے تین سال کیلئے رعایتی نرخوں پر بجلی ملے گی۔

وزیراعظم نے توقع ظاہر کی کہ پیکیج سے برآمدات میں مزید اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے اقدامات کے باعث گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے، تعمیراتی شعبہ آگے بڑھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وبا سے خدمات کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، ریستوران، شادی گھر اور سیاحت کا نقصان ہوا ہے، ملک میں صنعتوں کا فروغ ناگزیر ہے کیونکہ اس سے دولت پیدا ہوتی ہے، قرضوں کی ادائیگی میں استعداد کار میں اضافہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کے بعد ملکی برآمدات میں اضافہ خوش آئند ہے حالانکہ وبا کی وجہ سے عالمی سطح پر معیشتیں متاثر ہوئی ہیں، دنیا میں کورونا وبا کا دوسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے، پاکستان میں بھی کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، عوام سے اپیل ہے کہ عوامی مقامات پر فیس ماسک کے استعمال کو یقینی بنائیں۔

عمران خان نے کہا کہ وبا کے دوسرے مرحلہ کے تناظر میں کاروبار اور صنعتیں بند نہیں کریں گے، صنعتوں کا پہیہ ایس او پیز کے ساتھ چلتا رہے گا۔ وزیراعظم نے صنعتوں کیلئے شاندار پیکیج تیار کرنے پر اپنی معاشی ٹیم کو مبارکباد دی۔ اس موقع پر وفاقی وزرا اسد عمر، حماد اظہر، عمر ایوب اور مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے بھی اظہار خیال کیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here