2021ء تک عالمی ترسیلات زر میں 14فیصد کمی واقع ہو جائے گی : ورلڈ بنک

مہلک وبا کے باعث تارکین وطن کو سنبھالنے والے ممالک کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہوئی ہے اور وہاں ملازمتوں کو بحران پیدا ہوا ہے، سفری پابندیوں کے باعث رواں برس تارکین وطن کی تعاد تاریخ میں کم رہے گی جس کا اثر ترسیلات زر کے حجم پر پڑے گا

289

 لندن : ورلڈ بنک نے اپنی ایک تازہ ترین رپورٹ میں کورونا وائرس کے پیدا کردہ حالات کے باعث عالمی سطح پر ترسیلات زر میں تشویشناک کمی کی پیشگوئی کی ہے۔

بنک کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ عالمی سطح پر 2021ء تک بیرون ملک کام کرنے والے تارکین وطن کی جانب سے اپنے ممالک بھجوائی جانے والی رقم وبا پھوٹنے سے پہلے کی سطح سے 14 فیصد کم ہوجائے گی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سال 2020 میں کم اور متوسط آمدن والے ممالک کی ترسیلات زر کا حجم گزشتہ برس کی نسبت 7 فیصد کمی کے ساتھ 508 ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے۔ جب کہ سال 2021 میں ان کا حجم 470 ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے۔

بنک نے ترسیلات زر میں اس کمی کی وجہ کورونا کے باعث تارکین وطن کو سنبھالنےوالے ممالک کی معیشت کی زبوں حالی، وہاں ملازمتوں کے بحران، تیل کی قیمتوں اور ان ممالک کی کرنسی کی قدر میں کمی کو قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ  ایشیا اور یورپ کو 2020 اور 2021  میں ترسیلات زر میں بلترتیب 16 اور 11 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ترسیلات زر غریب اور متوسط آمدن والے ممالک کے لیے آمدن کا بڑا اور اہم ذریعہ ہیں جو بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے حوالے سے بہت معاون ہوتی ہیں۔ گزشتہ برس ان ممالک کی ترسیلات زر کا حجم ریکارڈ 548 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا جو کہ ان میں ہونے والی  براہ راست بیرونی سرمایہ کاری سے بھی چودہ ارب ڈالر زائد تھا۔

تاہم کورونا وبا کے باعث عالمی بنک نے نہ صرف رواں برس بلکہ اگلے سال بھی عالمی سطح پر ترسیلات زر میں بڑی کمی کی پیشگوئی کی ہے۔

بنک کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ رواں برس تارکین وطن کی تعداد تاریخ میں کم ترین ہوگی اور تشویشناک امر یہ ہے کہ لاک ڈاؤن ہٹائے جانے پر وبا کے باعث اپنی نوکریوں سےہاتھ دھونے والے ملازمین کی بڑی تعداد میں اپنے ممالک کو واپسی دیکھنے میں آئے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here