ای سی سی ٹیلی کام سیکٹر کو ٹیکس مراعات دینے پر رضا مند، کمیٹی قائم

وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے، ود ہولڈنگ ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، اضافی کسٹم ڈیوٹی اور سم ایکٹوویشن چارجز سمیت دیگر ٹیکسوں کے حوالےسے رعایت طلب کی جس پر ای سی سی نے اس ضمن میں سفارشات کی تیاری کے لیے کمیٹی قائم کردی

394

اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی  ( ای سی سی) نے ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر کے ٹیکسوں میں کمی کے معاملے کے حل کی منظوری دے دی۔

مشیر خزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں ٹیلی کام سیکٹر کو ٹیکسوں میں رعایت دینے کے لیے سفارشات کی تیاری کے لیے ایک ذیلی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی۔

یہ کمیٹی مشیر خزانہ حفیظ شیخ، مشیر برائے کفایت شعاری و ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین، مشیر تجارت عبد الرزاق داؤد، وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر پر مشتمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

پے پال کا کرپٹو کرنسی کے استعمال کی اجازت دینے کا فیصلہ

ابو ظہبی گروپ کا پاکستانی ٹیلی کام سیکٹر کو خیر باد کہنے کا فیصلہ

اس حوالے سے وزارت خزانہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ”ٹیلی کام سیکٹر کو سہولیات کی فراہمی کے پیش نظر ٹیکسوں میں کمی کے لیے ای سی سی نے اس ضمن میں بنائی جانے والی کمیٹی کی تجاویز کی اصولی منظوری کا فیصلہ کیا ہے۔

یہاں یہ بتانا بہتر ہو گا کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی مواصلات اس سے پہلے بھی دومرتبہ  ٹیلی کام سیکٹر پر عائد 12.5 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے، کم از کم ٹیکس کی شرح آٹھ فیصد سے کم کرکے تین فیصد کرنے، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح کو 16 فیصد کرنے، سم ایکٹیویشن کی مد میں 250 روپے کے چارجز ختم کرنے اور اضافی کسٹم ڈیوٹی کو تین فیصد کرنے کی سفارش کر چکی ہے۔

واضح رہے کہ ٹیلی کام سیکٹر کورونا وبا کے دنوں میں تعلیم اور صحت کے شعبے میں بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے لہٰذا اس شعبے کے ٹیکس مسائل کا حل ہونا بہت ضروری ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here