سعودی عرب کا غیر ملکی ملازمین سے متعلق ‘ کفالہ ‘ کا نظام تبدیل کرنے کا فیصلہ

1950 کی دہائی سے لاگو نظام میں غیر ملکی ملازمین کفیل پر منحصر ہوتے ہیں اور یہ ان کے استحصال کا باعث بنتا ہے، نئے نظام میں غیر ملکی ملازمین اور ملازمت دینے والے شخص یا کمپنی کا ایک دوسرے پر انحصار کم کیا جائے گا

352

ریاض :  سعودی عرب نے غیر ملکیوں کو ملازمت کی فراہمی کا موجودہ نظام، جو ‘کفالہ سسٹم’ کے نام سے جانا جاتا ہے، کو تبدیل کرنے کا ارادہ بنا لیا۔

عرب بزنس اخبار ‘مال’ میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق سعودی حکومت اگلے ہفتے غیرملکی ملازمین سے متعلق نئے قوانین جاری کرے گی جن کا اطلاق 2021ء کے پہلے حصے سے ہو گا۔

سعودی وزارت انسانی وسائل و سماجی ترقی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ”ملک کی لیبر مارکیٹ کی ترقی و اصلاحات کے لیے متعدد اقدامات اُٹھائے جا رہے ہیں۔”

اس وقت خیلجی ممالک بشمول سعودی عرب میں غیرملکی ملازمین کو ملازمت کی فراہمی کے لیے کفالہ سسٹم نافذ ہے جس کے تحت ملازمت کے خواہش مند کسی بھی غیر ملکی  کو اُن (خلیجی) ممالک کے کسی شہری یا کمپنی کی جانب سے سپانسر کیا جانا ضروری ہے۔

تیل کی دولت سے مالا مال اور اس کی بدولت ترقی کی منازل طے کرنے والے ان ممالک میں یہ نظام 1950ء کی دہائی میں لاگو کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے :

خیبرپختونخوا میں پہلا ڈیجیٹل سٹی کتنے ہزار ملازمتیں دے سکے گا؟

سعودی عرب کا سیاحتی شعبے میں 2030 تک 10 لاکھ نوکریاں پیدا کرنے کا اعلان

اس سسٹم کے تحت اُن ممالک میں ملازمت کے لیے آنے والے تمام افراد مملکت میں داخلے، اخراج اور دوبارہ واپسی کے لیے کفیل کی رضامندی پر کے تابع ہوتے ہیں۔

یہ نظام کفیل کی جانب سے غیرملکی ملازمین کے استحصال کا باعث بنتا ہے تاہم نئے نظام میں غیرملکی ملازمین کا ملازمت فراہم کرنے والے شخص یا کمپنی پر انحصار کم کیا گیا ہے اور اس میں دونوں فریقین کے حقوق کا خیال رکھا گیا ہے۔

یہاں یہ بتانا بہتر ہو گا کہ سعودی عرب رواں برس جی 20 ممالک کے اجلاس کی صدارت کرے گا اور وہاں نجی شعبے کو ترقی دینے اور اسے غیرملکیوں کے لیے پرکشش بنانے کے اقدامات میں تیزی آ رہی ہے، ایسا ولی عہد محمد بن سلمان کے ملک کی معیشت کا تیل پر انحصار کم کرنے کے ویژن کے تحت کیا جا رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here