کورونا کی دوسری لہر کے باوجود اقوام متحدہ کا سکول کھلے رکھنے پر زور

وبا کے بعد سے غریب ممالک کے بچے چار ماہ تعلیم سے محروم رہے، امیر ممالک میں تعلیمی سلسلہ چھ ہفتے منقطع رہا: رپورٹ

152

نیویارک:  دنیا کے کئی ممالک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر سر اٹھا چکی ہے، نئے کیسز اور اموات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس کے پیش نظر اکثر حکومتوں نے دوبارہ مکمل لاک ڈٓائون پر غور شروع کر دیا ہے۔

تاہم اقوام متحدہ اور ورلڈ بینک نے کووڈ۔ 19 کی وبا کے باعث دنیا کے غریب ممالک میں بچوں کی تعلیم کو پہنچنے والے نقصانات کے تدارک کے حوالے سے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں سکولوں کو بدستور کھلے رکھنے پر زور دیا ہے۔

یہ رپورٹ یونیسف، یونیسکو اور ورلڈ بینک نے جون سے اکتوبر تک کے عرصے میں 150 ممالک سے جمع کی گئی معلومات کی روشنی میں مرتب کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کی وبا شروع ہونے کے بعد سے غریب ممالک کے بچے چار ماہ تعلیم سے محروم رہے جبکہ دولت مند ممالک میں تعلیمی سلسلہ چھ ہفتے منقطع رہا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تعلیمی نقصان کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں نسبتاً زیادہ ہوا ہے جس کی بنیادی وجوہات میں فاصلاتی تعلیم تک رسائی کا فقدان، سکولوں کے دوبارہ کھلنے میں تاخیر کے امکانات اور صحت کے وسائل کی قلت شامل ہے۔

یونیسکو اور عالمی بینک نے اس امر پر زور دیا ہے کہ اس تعلیمی تعطل سے ہونے والے نقصان کے ازالے کے لئے سکولوں کے نظام میں فوری سرمایہ کاری کی جائے۔

یونیسف کے ایجوکیشن چیف رابرٹ جینکنز نے رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ سکولوں کو دوبارہ کھولنا اور کیچ اپ کلاسز کو ترجیح بنانا اہم بات ہے۔ ’ہمیں وبا کے باعث بچوں کی تعلیم کو پہنچنے والے نقصان کو سمجھنے کے لئے بہت زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔‘

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here