تاجروں کا فوری طور پر حفیظ سینٹر کھولنے کا مطالبہ

80 فیصد عمارت آگ سے محفوظ رہی، پورے کاروباری مرکز کو بند کرنا غیرضروری ہے، روزانہ ڈیڑھ سے دو کروڑ روپے کا کاروبار ہوتا تھا تاہم گزشتہ 10 روز سے کاوربار بند ہے: تاجر

156

لاہور: تاجروں نے فوری طور پر لاہور میں سمارٹ فونز اور کمپیوٹرز کے دوسرے بڑے مرکز حفیظ سینٹر کو کھولنے کا مطالبہ کیا ہے جسے آگ لگنے کے باعث ضلعی انتظامیہ نے سیل کر رکھا ہے۔

حفیظ سینٹر کے ایک تاجر خالد شفیق نے بتایا کہ حفیظ سینٹر میں روزانہ ڈیڑھ سے دو کروڑ روپے کا کاروبار ہوتا تھا تاہم گزشتہ 10 روز سے پلازہ بند ہے جس کی وجہ سے تاجروں کو شدید نقصان ہو رہا ہے۔

“آگ لگنے کے باعث ہونے والے نقصان کے بارے میں ہم بہت پریشان ہیں کیونکہ ہمارے کاروبار بند ہو کر رہ گئے ہیں، کیا اس مشکل وقت میں مارکیٹ کو بند کر دینا ہی اس کا حل تھا؟”

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بجائے تاجروں کو ریلیف فراہم کرنے کے انتظامیہ نے ان کے کاروبار ہی بند کر دیے ہیں۔

موبائل اسیسریز کا کاروبار اور موبائل فون مرمت کرنے والے ایک دکاندار حافظ ظہیر مدنی نے کہا کہ وہ گزشتہ 10 روز سے بے روزگار ہیں۔

“اگرچہ حکومت کی جانب سے پلازے کا جامع معائنہ کیا گیا ہے لیکن انتظامیہ نے نہیں بتایا کہ کب  کاروبار دوبارہ سے کھولنے کا این او سی جاری کیا جائے گا۔‘‘

یہ بھی پڑھیے:

حکومتی کلیرنس ملنے تک حفیظ سینٹر مکمل سیل

حفیظ سینٹر آگ، کروڑوں کا نقصان، تاجروں کا حکومت سے معاوضہ دینے کا مطالبہ

اس دوران تاجروں کی ایک تنظیم خدمت گروپ کے حکام نے حفیظ سینٹر کو جلد دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ ان کے بقول مسائل حل کرنے کے لیے تاجر حکومت پر انحصار نہیں کر سکتے۔

انہوں کا کہنا تھا کہ پورے پلازے کو بند کرنا غیرضروری ہے کیونکہ حادثے کے دوران بیسمنٹ، گراؤنڈ فلور اور فرسٹ فلور 80 فیصد محفوظ رہے، ماہرین کی جانب سے پلازے کا سروے کیا جانا چاہیے اور جلد این او سی جاری کیا جائے۔

دوسری جانب پنجاب حکومت نے بڑی عمارتوں کے اندر اور باہر ہائڈرنٹس نصب نہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔

محکمہ داخلہ پنجاب میں موجود ذرائع نے بتایا کہ پنجاب ایمرجنسی کونسل (پی ای سی) کے چھٹے اجلاس میں لاہور سمیت پنجاب بھر میں نئی تعمیر کی جانے والے کمرشل عمارتوں کے اندر اور باہر ہائڈرنٹس نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ حکومت فائر ہائڈرنٹس کی عدم انسٹالیشن کے باعث کسی بھی طرح کے بلڈنگ پلان کی منظوری نہیں دی جائے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here