پہلی سہ ماہی میں سیمنٹ سیکڑ کا شاندار کم بیک، ریونیو میں زبردست اضافہ

کورونا کا پیدا کردہ طویل معاشی جمود ٹوٹ گیا، لکی، میپل لیف اور کوہاٹ سیمنٹ کے منافعوں اور فی حصص آمدنی میں زبردست اضافہ

129

کراچی : ملکی سیمنٹ سیکٹر کا کاروبار طویل عرصے تک چھائی رہنے والی مندی کے بعد بحال ہونے لگا ہے، کورونا کے باعث پیدا ہونے والے معاشی جمود نے اس سیکٹر کو شدید زک پہنچائی تھی۔

کاروبار کی بحالی کی تفصیلات کچھ یوں ہیں کہ لکی سیمنٹ نے مالی سال 2020-21ء کی پہلی سہ ماہی کے اختتام پر 5.13 ارب روپے کا بعد از ٹیکس منافع ظاہر کیا ہے جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کی نسبت 236 فیصد زائد ہے۔

پاکستان سٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے مالیاتی نتائج کے مطابق  رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کمپنی کی  فی حصص آمدن 13.45 روپے ہو گئی ہے جو گزشتہ برس کے اسی عرصے میں 3.93 فی شئیر روپے تھی۔

یہ بھی پڑھیے :

پہلی سہ ماہی میں سیمنٹ کی برآمدات میں 8.27 فیصد اضافہ

سرمایہ کاروں کیلئے سہولت، پنجاب حکومت نے سیمنٹ فیکٹریز لگانے کیلئے این او سی کا اجراء آسان بنا دیا

اسی طرح کوہاٹ سیمنٹ کا منافع بھی گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کی نسبت 475 فیصد بڑھ گیا، مالی سال 2020-21ء کی پہلی سہ ماہی میں کمپنی نے 507.1 ملین روپے کا منافع کمایا جب کہ گزشتہ برس کے اسی عرصے میں اس نے 88.2 ملین روپے کا منافع کمایا تھا۔

رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کمپنی کی فی حصص آمدنی 2.52 روپے رہی جو گزشتہ برس کے اسی عرصے میں 0.44 فیصد تھی۔

اُدھر مسلسل چار سہ ماہیوں تک نقصان کا سامنا کرنے والی میپل لیف سیمنٹ کمپنی نے رواں برس کی پہلی سہ ماہی کے اختتام پر 555 ملین روپے کا منافع ظاہر کیا ہے جب کہ اس کی فی حصص آمدنی 0.51 روپے رہی۔

مقامی اور بین الاقوامی سطح پر  پاکستان کے سیمنٹ سیکٹر کی سیل سہ ماہی بنیادوں پر 52 فیصد بڑھی ہے جس کی بڑی وجہ حجم اور ریٹینشن پرائس میں 35 فیصد کا اضافہ  ہے۔

معاشی ماہرین کی رائے ہے کہ سیمنٹ سیکڑ کے ریونیو میں اضافہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کے باعث ریٹینشن پرائس بڑھنے اور شمالی ریجن میں ریٹیل قیمت میں اضافے کی وجہ سے ہوا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here