سٹیٹ بینک، غیرملکی شئیرہولڈرز کو منافع منتقل کرنے کا نیا طریقہ کار متعارف

غیرملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری سے حاصل منافع جات اپنے شئیرہولڈرز کو منتقل کرنے کیلئے اب سٹیٹ بینک کی اجازت کے پابند نہیں ہوں گے

98

اسلام آباد: سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے غیرملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری سے حاصل منافع جات غیرملکی شئیر ہولڈرز کو منتقل کرنے کا نیا شفاف طریقہ کار وضع کیا ہے۔

سٹیٹ بینک کے ترجمان نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد پاکستان میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نئے طریقہ کار کے تحت کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے غیر ملکی شئیر ہولڈرز کو منافع یا سرمایہ آسانی اور سہولت کے ساتھ منتقل کر سکتے ہیں، اس میں متعلقہ بینکوں کو اختیارات سونپ دئیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے مقامی کمپنیوں کو بالخصوص سٹارٹ اپس اور براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کو راغب کرانے میں مدد ملے گی۔

ترجمان نے کہا کہ نئے طریقہ کار وضع کرنے میں سرمایہ کاروں اور متعلقہ شراکت داروں سے حاصل کردہ فیڈبیک سے مدد لی گئی ہے۔

اس سے قبل جب کسی کمپنی یا سرمایہ کار کو ایک خاص سے زیادہ سرمایہ پاکستان سے باہر منتقل کرنا ہوتا تھا تو اس کے منتخب بینک کو سٹیٹ بینک سے خصوصی اجازت درکار ہوتی تھی جس پر سرمایہ کاروں کو تحفظات تھے تاہم اب مرکزی بینک کی اجازت کے بغیر بھی رقم منتقل کی جا سکے گی۔

تاہم اب اس عمل کو آسان بنانے کی کوشش کی گئی ہے، Tundra Fonder کے بانی اور چیف انویسٹمنٹ آفیسر میٹیاس مارٹنسن کے مطابق ’سٹیٹ بینک کا یہ اقدام دیکھنے میں چھوٹا ہے، لیکن جن افراد نے پرانا سسٹم استعمال کیا ہے ان کے نزدیک یہ ایف ڈی آئی ٹرانزیکشن کے حوالے سے ایک بڑا اقدام ہے تاہم اس کا عملی طور پر نفاذ ہی اس کی کامیابی کی کلید ثابت ہو سکتا ہے۔‘

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here