خیبرپختونخوا میں ماربل فیکٹریوں سے متعلق نیا قانون، عمل درآمد مشکل کیوں ؟

جنوری میں کرشنگ پاور ایکٹ 2020 جاری کیا گیا تھا مگر تاحال اس کا نفاذ نہیں ہوا، پلان کی عدم موجودگی کے باعث اگرنئے قانون پر عمل درآمد ہوا تو صوبے کی ماربل فیکٹریوں کی بڑی تعداد بند ہوجائے گی

70

پشاور : خیبر پختونخوا حکومت نے پورے صوبے میں  کرشنگ پاور ایکٹ 2020 کے نفاذ  کے احکامات جاری کردیے۔ یہ ایکٹ جنوری میں پاس کیا گیا تھا مگر تاحال اس پر عمل درآمد کروانے کے سلسلے میں کسی ادارے نے کوئی اقدام نہیں اُٹھایا۔

ماربل مائنز اینڈ انڈسٹری ڈیویلپمنٹ کے صوبائی صدر محمد سجاد خان کا پرافٹ سے گفتگو میں کہنا تھا کہ جب تک حکومتی ایجنسیاں اس صنعت سے وابستہ افراد کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے متحرک نہیں ہونگی اس ایکٹ پر عمل درآمد مشکل ہوگا۔

انکا کہنا تھا کہ وہ اس ایکٹ پر عمل درآمد کے لیےحکومت کی تمام شرائط ماننے کے لیے تیار ہیں مگر حکومت کو اس طرح کی قانون سازی کرتے وقت لاکھوں لوگوں کو ملازمت دینے والے سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں ضرور لینا چاہیے۔

اُدھرصوبے کی ماربل انڈسٹری کی ایسوسی ایشن  کے نائب صدر گل روز خان کا پرافٹ سے گفتگو میں کہنا تھا کہ اس قانون پر عمل درآمد کی صورت میں ساڑھے تین ہزار ماربل فیکٹریاں بند ہوجائیں گی جن میں سے زیادہ تر ضلع بوبنیر کے پہاڑی علاقے میں واقع ہیں۔

یہ بھی پڑھیے :

تین ماہ کے دوران پاکستانیوں نے 1.20 ملین ڈالر کا سونا درآمد کر لیا

سردیوں میں صنعتوں کو گیس ملے گی یا نہیں ؟ اسد عمر نے واضح کردیا

یہ قانون کہتا  ہے کہ ماربل فیکٹریاں آبادی اور سڑک سے 200 میٹر کی دوری پرہونی چاہیے  مگر کسی پلان کی  عدم موجودگی کے باعث ضلع بونیر میں اس قنون پر عمل درآمد مشکل نظر آتا ہے۔

گل روز خان کا مزید کہنا تھا  کہ اگر ہم اس قانون پر عمل کرتے ہیں تو ہمیں فیکٹریاں بند کرنا پڑیں گی جس کی وجہ سے اس صنعت سے وابستہ لاکھوں لوگوں کا روزگار ختم ہوجائے گا۔

انکا مزید کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع سمیت صوبے میں تقریباً 3 ہزار 600 ماربل فیکٹریاں کام کررہی ہیں جن میں حکومت نے سیفٹی ٹینکس لگائے ہیں مگریہ ٹینکس دس دن میں ہی بھر جاتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ فیکٹریوں کے فضلے کو ٹھکانے لگانے کے لیے باقاعدہ ڈمپنگ سائٹ کا ہونا ضروری ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ماربل ویسٹ کو قائدے کے ساتھ ٹھکانے لگا کر حکومت ماحولیاتی مسائل پر قابو پانے کے ساتھ لاکھوں روپے کما سکتی ہے ۔

یہاں یہ بات بتانا بہتر ہے کہ کرشنگ پاور ایکٹ کو پاس ہوئے  تقریباً ایک سال کا عرصہ گزرجانے کے باوجود ابھی تک ماربل فیکٹریوں کے این او سی اور لائسنس کے لیے کوئی اقدام نہیں اُٹھایا گیا ۔

 تاہم اب اس سلسلے میں صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر محمود جان نے متعلقہ حکام کو صوبےمیں ماربل فیکٹریوں کو فوری طور پر قانون کے تابع لانے کی ہدایت کردی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here