سام سنگ کو دنیا کی بہترین کمپنی بنانے والا شخص چل بسا

128

سیئول: معروف کورین سمارٹ فون اور الیکٹرانکس گروپ سام سانگ کو دنیا کی بہترین کمپنی بنانے والے چئیرمین لی کُن ہی (Li Kun Hee) اٹھہتر سال  کی عمر میں چل بسے۔

ساؤتھ کورین خبررساں ادارے نے چئیرمین سام سانگ لی کن ہی کے انتقال پر کہا ہے کہ ’سام سنگ کی کہانی اور کوریا کی تاریخ کا ایک دوسرے کے ساتھ گہرا تعلق ہے، لی کن ہی سام سانگ کے بانی لی بیونگ چُل (Lee Byung-chul) کے بیٹے تھے جنہوں نے جنوبی کوریا میں آمریت کے خاتمے کے بعد 1980 کے لگ بھگ جمہوری دور میں سام سنگ کی بھاگ ڈور سنبھالی تھی۔

لی کن ہی کی قائدانہ صلاحیتوں کے تحت سام سانگ نے الیکٹرانکس کے میدان میں کئی اہم سنگ میل عبور کیے اور سیمی کنڈکٹرز، میمری چپس اور دیگر آلات بنائے جو دورِ حاضر کی ڈیجیٹل ڈیوائسز کا لازمی حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

1990 کی دہائی میں جب جنوبی کوریا کو معاشی مسائل کا سامنا تھا اور بڑی بڑی کمپنیاں دیوالیہ پن کا شکار تھیں تو ایسی بے یقینی کی صورتحال میں لی کن پہی نے اپنی کمپنی کو معاشی مشکلات سے نکالا، 1998ء میں ایشیائی مالیاتی بحران نے دیگر  ممالک کے ساتھ جنوبی کوریا کی معیشت کو بھی زمین بوس کر دیا، اس دوران عالمی انٹرنیٹ سٹاکس بھی بدترین مندی کا شکار ہوئے۔

ان مشکلات سے نکلنے کے بعد لی کن ہی نے سام سانگ گلیکسی سیریز میں سرمایہ کاری کرنا شروع کی جسے سمارٹ فون کی دنیا میں صارفین کی جانب سے بڑی پذیرائی ملی، اس منصوبے نے سام سانگ کو انڈسٹریل پاور ہاؤس سے دنیا بھر میں صارفین کے پسندیدہ برانڈ کی صف میں لاکھڑا کیا۔

سام سانگ الیکٹرانکس کا دنیا کی ویلیو ایبل کمپنی میں شمار ہوتا ہے جس کی مالیت تقریباََ 350 ارب ڈالر ہے۔

بلومبرگ کے مطابق لی کن ہی جنوبی کوریا کے امیرترین افراد میں شمار ہوتے تھے جو 20 ارب ڈالر کے قریب مالیت چھوڑ گئے ہیں، ان کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ اور چار بچے شامل ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here