الیکٹرک بسیں چلانے کیلئے چین کے بعد جرمن کمپنی کے ساتھ بھی معاہدہ

پاکستان 1.6 ارب ڈالر کے طبی آلات درآمد کرتا ہے، فیصل آباد میں میڈیکل سٹی کے بعد اگلا ہدف ڈائیلائسز، ایکس رے مشینیں اور وینٹی لیٹرز کی مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ ہے: فواد چوہدری

439

اسلام آباد: وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان میں الیکٹرک بسیں تیار کرنے کیلئے جرمن کمپنی کے ساتھ معاہدہ کر رہی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ انکی وزارت جرمن الیکٹرک بس مینوفیکچرر کے ساتھ ایک میمورینڈم آف انڈرسٹینڈنگ (ایم او یو) پر دستخط کرے گی جو چینی کمپنی سکائی ویل آٹوموبائل کے بعد دوسری ایسی کمپنی ہو گی جو پاکستان میں اپنا مینوفیکچرنگ یونٹ قائم کرے گی۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ گزشتہ روز ہم نے چینی کمپنی سکائی ویل کے ساتھ الیکٹرک بسوں کے لیے ایک ایم او یو پر دستخط کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

ملک میں رواں برس بجلی سے چلنےوالی بسوں کی اسمبلنگ شروع ہوجائے گی

اسلام آباد میں الیکٹرک بسیں چلانے کیلئے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور سی ڈی اے کے درمیان معاہدہ

اگست میں ڈائیوو پاکستان اور سکائی ویل آٹوموبائل کے درمیان چین میں سٹریٹیجک الائنس ایگریمنٹ پر دستخط کیے گئے تھے جس کے تحت دونوں کمپنیاں پاکستان میں الیکٹرک بسیں متعارف کرانے کے لیے تعاون کریں گے جبکہ دیگر الیکٹرک وہیکلز کی تیاری کیلئے بھی تکنیکی معاونت فروہم کریں گی۔

وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ ملک کو معاشی شرح نمو میں اضافے کے پیش نظر برآمدات میں اضافے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ٹیکنالوجی پر انحصار بڑھانا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ فیصل آباد میں میڈیکل سٹی کے قیام کے بعد وزارت کا اگلا ہدف الیکٹرو میگنیٹک میڈیکل مصنوعات تیار کرنا ہے جس میں ڈائیلائسز اور ایکس رے مشینیں اور وینٹی لیٹرز شامل ہیں، اس مقصد کیلئے سیالکوٹ میں میڈیکل سٹی قائم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان 1.6 ارب ڈالر کے میڈیکل آلات درآمد کرتا ہے اور امید ہے کہ ہم مقامی پیداوار کے ذریعے درآمدات کے متبادل آلات پاکستان میں تیار کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here