سردیوں میں صنعتوں کو گیس ملے گی یا نہیں ؟ اسد عمر نے واضح کردیا

گیس کی پیداوار کم، مانگ زیادہ، حکومت کی ترجیح گھریلو صارفین، صنعتوں کو بھی بلا تعطل فراہمی کے لیے کوشاں ہیں، نرخوں پر بھی نظر ثانی کریں گے: حیدر آباد میں خطاب

211
FILE PHOTO: Pakistan's Finance Minister Asad Umar gestures during a news conference in Islamabad, Pakistan, November 30, 2018. REUTERS/Faisal Mahmood/File Photo

حیدرآباد :  وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے آئندہ موسم سرما میں صنعتوں کو گیس کی فراہمی میں مشکل پیش آنے کی طرف اشارہ کر دیا ۔

حیدرآباد جم خانہ میں ہونے والی ایک تقریب میں جامشورو، حیدرآباد، کوٹری، نوری آباد کے ایوان ہائے صنعت و تجارت کے وفود سے خطاب کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ اس وقت گیس کی طلب 6 ارب کیوبک فٹ جب کہ پیداوار 4 ارب کیوبک فٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ گیس کی فراہمی کے حوالے سے گھریلو صارفین حکومت کی ترجیح ہیں اور سرکار صنعتوں کو بھی گیس کی بلاتعطل فراہمی کے لیے کوشش کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت گیس کے نرخوں پر بھی نظرثانی کر رہی ہے تاکہ ایل این جی (Liquefied Natural Gas)  بھی صارفین کے استعمال کے لیے دستیاب رہے۔

یہ بھی پڑھیے :

پاکستان میں بجلی کیوں مہنگی ہے؟ وزیر توانائی نے وجہ بتا دی

گیس اصلاحات، سوئی سدرن، سوئی ناردن کےٹکڑے کرنے کے منصوبہ

اس موقع  پر تاجروں اور صنعت کاروں کی جانب سے اپنی مشکلات اور مطلوبہ مقدار میں بجلی کی عدم فراہمی کا گلہ کیا گیا  تو وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے کہا کہ ”حکومت جلد صنعتوں کے لیے ایک پیکج کا اعلان کرے گی، ملک میں وافر بجلی دستیاب ہے اور توانائی کے شعبے، خاص کر اس کے ڈسٹری بیوشن کے نظام  میں اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے جس کی بنا پر اُمید ہے کہ بجلی کی فراہمی کا  مسئلہ حل ہو جائے گا۔”

تعمیراتی شعبے کی مشکلات سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم 40 شعبہ جات میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے اس سیکٹر  کی ترقی کے لیے پرعزم ہیں، حکومت اس شعبے کے لیے وسیع مراعات پر مبنی پیکج تیار کر رہی ہے جو ملکی ترقی و خوشحالی کی رفتار کو تیز کرنے کا سبب بنے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ انڈسٹریل ایریاز کا معاملہ صوبائی حکومتیں  دیکھ رہی ہیں اور اگر اس ضمن میں نئے منصوبوں کے حوالے سے  وفاقی حکومت کو صوبوں کی جانب سے کوئی تجویز موصول ہوئی تو اسے خوش آمدید کہا جائے گا۔

صحت کے شعبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ کورونا وباء کے نتیجے میں صوبوں کو عوام کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے مشترکہ بااثر حکمت عملی ترتیب دینے کی اہمیت کا اندازہ ہو گیا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے کورونا جیسی آفات سے مقابلے کے لیے صحت کے شعبے کو جدت سے آراستہ کرنے کے لیے 50 ارب روپے مختص کیے ہیں، مرکزی حکومت سندھ کے ساتھ رابطے میں ہے اور صوبائی حکومت کی جانب سے سفارشات پر حیدرآباد میں بھی صحت کی سٹیٹ آف دی آرٹ سہولیات کی فراہمی میں مدد کے لیے تیار ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here