گوگل کے خلاف ‘اینٹی ٹرسٹ کیس’ میں امریکی حکومت کو کامیابی ملنے کا امکان کم کیوں؟

گوگل کی ناجائز اجارہ داری کو عدالت میں ثابت کرنا مشکل، کمپنی اپنے حق میں مضبوظ دلائل رکھتی ہے، حالیہ کیسز میں عدالتوں نے بڑی کمپنیوں کو مرضی کی بزنس حکمت علمی ترتیب دینے کی اجازت دی ہے: قانونی ماہرین

73
"Bassano del Grappa, Italy - September 17, 2012: Google main page on the web browser. Google is the most popular search engine in the world."

آکلینڈ / نیویارک : امریکی قانونی ماہرین نے حکومت کی گوگل کے خلاف شکایت میں وزن ہونے کے باوجود عدالتوں میں سرچ انجن کے خلاف کارروائی  سے متعلق غیر یقینی کا اظہار کیا ہے۔

امریکی حکومت نے گوگل پر انٹرنیٹ سرچ پر اجارہ داری قائم کرنے کے لیے ایسے معاہدے اور اقدامات کرنے کا الزام عائد کر رکھا ہے جو اسے اس میدان میں سب سے آگے رکھنے کا مؤجب بنے ہوئے ہیں۔

طویل عرصے سے دائر اس کیس میں کامیابی کے لیے امریکی محکمہ انصاف کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ گوگل نے مارکیٹ میں اجارہ داری مسابقت کے اصولوں کی خلاف ورزی کے ذریعے قائم کر رکھی ہے۔

معروف سرچ انجن کے خلاف اس کیس میں امریکہ کی مرکزی حکومت کو 11 ریاستوں کی حمایت بھی حاصل ہے جبکہ نیویارک کے اٹارنی جنرل نے گوگل کے خلاف ایک علیحدہ درخواست دائر کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مشکل ہے کہ حکومت اپنا کیس واپس لے گی بلکہ اگر ڈیمو کریٹس کے جوبائیڈن آئندہ انتخابات جیت گئے تو وہ اس کیس کی زیادہ سختی کے ساتھ پیروی پر زور دیں گے۔

یہ بھی پڑھیے :

گوگل کا ہینگ آئوٹ بند کرنے، چیٹ پر منتقل ہونے کا فیصلہ

’گوگل، فیس بک سمیت چار بڑی کمپنیاں کسی کو جواب دہ نہیں‘

اس کیس میں اپنے جواب میں سرچ انجن گوگل عدالت میں یہ کہہ سکتی ہے کہ حکومت نے اس کی مارکیٹ کا درست اندازہ نہیں لگایا ۔

ماہرین مانتے ہیں کہ گوگل کے بارے میں سوالات کی وجہ اس چیز کا واضح نہ ہونا ہے کہ کیا لوگ گوگل کو پسندیدگی کی وجہ سے استعمال کرتے ہیں یا ایسا گوگل کے کسی اقدام کی وجہ سے ہے۔

یونیورسٹی آف پنسلوینیا میں قانون کے پروفیسر جان لوپاٹکا (John Lopatka) کا کہنا ہے کہ گوگل عدالت میں اس کے جواب میں کہہ سکتا ہے کہ ‘ہم ایک چھوٹی لیکن مشہور کمپنی تھے، بہت اچھا کام کیا اور اسی سبب آج سب سے آگے ہے ۔’

جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں قانون کے پروفیس William Kovacic کا کہنا ہے کہ ‘سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں کو دیکھا جائے تو بڑی کمپنیوں سے متعلق عدالتی رویے میں ایک تبدیلی نظر آتی ہے، عدلیہ نے اپنے حالیہ فیصلوں میں ان کمپنیوں کو کاروبار کی حکمت عملی تشکیل دینے کی اجازت دی ہے، یوں اگر مدعی چاہے حکومت ہی کیوں نہ ہو کچھ کرنا اگرچہ ناممکن نہیں مگر آسان بھی ہرگز نہیں ہے۔’

ماہرین کہتے ہیں کہ اگرچہ حکومت گوگل کی اجارہ داری سے متعلق اپنا کیس ثابت کرنے میں کامیاب ہو بھی جائے تب بھی عدالتوں کے لیے انٹرنیٹ سرچ میں مسابقت کو بہتر بنانے کا کوئی طریقہ بنانا یا اس بارے میں کوئی ہدایت دینا آسان نہیں ہوگا کیونکہ آج کے دور میں سرچ انجن بنانا آسان نہیں لہٰذا بہت مشکل ہے کہ کوئی دوسری کمپنی گوگل کو چیلنج کرے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here