مالی سال 2020: بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ریکوریاں بڑھنے کے بجائے کم کیوں ہوئیں؟

کورونا کے دنوں میں بجلی کے بلوں پر دی جانے والی چھوٹ، مہنگی بجلی کے باعث عوام کا سولر پاور کی طرف بڑھنے والے رجحان، صارفین کی تعداد میں کمی اور پاور جنریشن کمپنیوں کو ادائیگی کے مہنگے معاہدوں کے باعث ڈسکوز کے مالی بوجھ میں شدید اضافہ ہوگیا

85

اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی ( نیپرا) نے اپنی سالانہ سٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ میں پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں ( ڈسکوز ) کی ریکوریوں میں کمی کی خبر دی ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2019-20ء میں ڈسکوز کی ریکوریاں گزشتہ مالی سال 2018-19ء کی نسبت 1.48 فیصد کم رہیں۔

تاہم نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے اس کی ذمہ داری کورونا سے پیدا شدہ حالات پر ڈالی ہے، اتھارٹی کی جانب سے بجلی کے شعبے سے متعلق سٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2020ء میں کہا گیا ہے کہ مہلک کورونا وبا کے باعث حکومت کو معاشی اور سماجی اقدامات میں توازن رکھنا پڑا اور وبا کے معاشی اثرات کے مقابلے کے لیے بلوں کی ادائیگی میں دی جانے والی چھوٹ نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ریکوری پر نہایت بُرا اثر ڈالا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2020ء میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے جاری کیے گئے بلوں کی مد میں 88.77 فیصد ریکوری کی جو مالی سال 2019ء میں 90.25 فیصد تھی۔

یہ بھی پڑھیے :

یو ای ٹی لاہور کو سولرانرجی پر منتقل کرنے کا منصوبہ شروع

حکومت کا بجلی، گیس، زراعت کیلئے اربوں کی سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ

ادائیگیوں کی گردشی فطرت کے باعث ڈسکوز کی جانب سے پاور پروڈکشن اور ٹرانسمیشن کمپنیوں کو ادائیگیاں متاثر ہوئیں ہیں، جون 2020ء تک سنٹرل پاور پرچیزنگ کمپنی (سی پی پی سی) کے ذمے پاور پروڈکشن کمپنیوں کے واجبات کا حجم 10 لاکھ 42 ہزار 75 ملین تک پہنچ گیا تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ ملک میں بجلی کی پیداوار کی کمی کے مسئلے پر قابو پالیا گیا ہے مگر اس ضمن میں پاور پروڈکشن کمپنیوں کو’ٹیک اینڈ پے’ کے تحت ادائیگیوں کے معاہدے کی وجہ سے ڈسکوز کا مالی بوجھ بہت بڑھ گیا ہے، اس معاہدے کے تحت مناسب مقدار میں بجلی کی خریداری ضروری ہے تاکہ مالی بوجھ کو کم رکھا جائے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈسٹری بیوشن اور ٹرانسمیشن کے نقصانات، کم ریکوریوں،  ٹیک اینڈ پے معاہدوں، کرنسی کی قدر میں کمی ، سیلز گروتھ میں کمی اور مہنگے بجلی گھروں پر انحصار وہ عوامل ہیں جن کے باعث ڈسکوز کا مالی بوجھ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں اضافے، بوسیدہ اور ناقص ڈسٹری بیوشن سروسز اور لوڈ شیڈنگ کے باعث عوام نے جنریٹروں، یو پی ایس اور سولر پاور کا رُخ کرلیا ہے جس کی وجہ سےڈسکوز کے ایسے صارفین کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے جو زیادہ بجلی استعمال کرتے تھے  اور نتیجے میں زیادہ بل ادا کرتے تھے اور اس چیز کا بھی پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی آمدن پر بہت اثر پڑا ہے۔

نیپرا نے اپنی رپورٹ میں پاور سیکٹر کے مسائل کے حل کے لیے اس شعبے میں  اصلاحات تیز کرنے اور  نیشنل الیکٹریسٹی پلان کی جلد تشکیل کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس کی روشنی میں  اتھارٹی توانائی کے شعبے کے لیے ایسا  فریم ورک تشکیل دے سکے جو تمام سٹیک ہولڈرز کے وسیع تر مفاد میں ہو۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here