بینک قرضے دیتے وقت غریب کی عزت نفس کا خیال رکھیں: وزیراعظم

قومی رابطہ کمیٹی برائے ہاوسنگ، تعمیرات و ڈویلپمنٹ کا ہفتہ وار اجلاس، نجی بینکوں کے سربراہان کی تعمیراتی سیکٹر کے فروغ کیلئے مکمل تعاون کی یقین دہانی

96

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی برائے ہاوسنگ، تعمیرات و ڈویلپمنٹ کا ہفتہ وار اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک نے غریب اور متوسط طبقے کے لیے آسان اقساط پر قرضوں کی فراہمی کے حوالے سے بریفنگ دی۔

نیشنل بینک، الائیڈ بینک، میزان بینک، بینک الحبیب، حبیب بینک اور بینک آف پنجاب کے سربراہان نے وزیر اعظم کو نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے تحت قرضوں کی فراہمی کے بارے میں آگاہ کیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ قرضوں کی حصولی کے عمل کو آسان ترین بنایا گیا ہے اور اس ضمن میں برانچز میں الگ ڈیسک بنائے گئے ہیں۔ پرائیویٹ بینک، اسلامی اور روایتی بینکاری دونوں کے تحت قرضے فراہم کریں گے۔

بینکوں کے سربراہان نے حکومت کو تعمیراتی سیکٹر کے فروغ اور غریب طبقے کو اپنا گھر بنانے کی سہولت مہیا کرنے پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے وزیر اعظم اور حکومتی معاشی ٹیم کو کورونا وبا کے پیش نظر کاروباری طبقے بشمول بینکوں کے لیے کیے گئے اقدامات پر خراج تحسین پیش کیا۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ قرضوں کی فراہمی کے عمل کو کم مدتی بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ قرضہ لینے والے افراد کے کوائف کی تصدیق جلد ہو سکے۔ وزیر اعظم کو آگاہ کیا گیا کہ مزید پرائیویٹ بینک بھی قرضوں کی فراہمی شروع کر دیں گے۔

وزیراعظم نے تاکید کی کہ غریب افراد کو بینکوں سے قرضوں کے حصول کے دوران ہر قسم کی آسانی فراہم کی جائے اور خاص طور پر ان کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے۔

چیف سیکرٹری پنجاب نے اجلاس کو بتایا کہ تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد اور بلڈرز کے لیے آن لائن پورٹل کا اجراء کیا جا چکا ہے جس پر اب تک چھ ہزار 994 درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور ان میں سے 54 فیصد کی منظوری دی جا چکی ہے۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا متعلقہ اداروں کو بھی آن لائن پورٹل کے ذریعے منسلک کیا گیا ہے تاکہ منظوری کے عمل میں تاخیر نہ ہو۔ ہر منظوری کے عمل کو وقت کا پابند بنایا گیا ہے اور درخواست دہندہ اپنے کیس کے بارے میں موبائل ایپ کے ذریعے آگاہ رہتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ تمام صوبے آن لائن پورٹل کا بھر پور استعمال کریں تاکہ منظوری کے عمل کو مکمل طور پر شفاف اور جلد ممکن بنایا جائے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here