گندم بحران کے خلاف چاروں صوبوں کا بڑے فیصلے پر اتفاق

چاروں صوبے اپنے اپنے سٹاک سے گندم جاری کرنے پر متفق، مقصد مہنگائی کی لہر میں اس کی قلت اور قیمت میں اضافے کا پیشگی سدباب کرنا ہے

126

 اسلام آباد : چاروں صوبائی حکومتوں نے مارکیٹ میں گندم کی کمی نہ ہونے دینے کے عزم کے تحت اپنے اپنے سٹاک سے گندم جاری کرنے کے عمل کو تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ فیصلہ ملک میں جاری مہنگائی کی لہر میں خوراک کی اس اہم جنس کی قلت کے ماحول کی پیشگی روک تھام کے لیے کیا گیا ہے۔

چاروں صوبائی حکومتوں نے اس بات پر اتفاق وزارت خوراک کے ایک مشاورتی اجلاس میں کیا جس کی صدارت وزیر خوراک سید فخر امام کر رہے تھے۔

اس اجلاس میں تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز نے وفاقی وزیر خوراک  کو اشیائے خورونوش  کی قلت کے سدباب اور ان کی  قیمتوں میں کمی لانے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے :

ای سی سی نے تین لاکھ چالیس ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت دے دی

دسمبر تک پبلک سیکٹر 16 لاکھ ٹن، نجی سیکٹر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرے گا: وزارت خوراک

اجلاس کو بتایا گیا کہ پنجاب نے سات جولائی سے ہی سرکاری گندم جاری کرنا شروع کر دی تھی اور اب مارکیٹ میں یومیہ 16 سے  20 ہزار ٹن گندم ریلیز کی جا رہی ہے جبکہ صوبہ یہ سپلائی 25 ہزار ٹن تک بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے جس کے باعث مقامی مارکیٹ میں گندم اور آٹے کی قیمت میں خاطر خواہ کمی واقع ہو گی۔

پنجاب کے چیف سیکرٹری نے اجلاس کو بتایا کہ عوام کو سستے داموں آٹے کی فراہم کے لیے صوبہ بھر میں 196 سہولت بازار قائم کیے گئے ہیں۔

اس موقع پر سندھ کے چیف سیکرٹری نے بتایا کہ جلد سرکاری گوداموں سے گندم جاری کرنا شروع کر دیں گے جبکہ خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری نے کہا کہ صوبے نے سات اگست سے گندم ریلیز کرنا شروع کر دی تھی جس کی قیمت کو قابو میں رکھنے کے لیے سخت نگرانی کی جارہی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کو سستے داموں آٹے کی فراہی کے لیے صوبے بھر میں سستے بازار قائم کیے گئے ہیں جبکہ گندم کی ریلیز تین ہزار ٹن سے بڑھا کر چار ہزار ٹن یومیہ کردی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here