ائیرپورٹ سکیورٹی فورس میں 500 غیرقانونی بھرتیوں کا انکشاف، وزارت قانون سے رہنمائی طلب

ائیرپورٹ سیکیورٹی فورس اور دیگر محکموں اور ڈویژنز میں 799 غیر قانونی بھرتیوں کا مسئلہ حکومت کے لیے سر درد بن گیا

102

اسلام آباد : کابینہ کی کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو بھرتیوں کی منظوری سے متعلق لاء اینڈ جسٹس ڈویژن سے رائے لینے کی ہدایت کی ہے۔

سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنز میں غیر قانونی بھرتیوں کی نشاندہی کے لیے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔

کمیٹی کی تحقیقات میں 799 غیرقانونی بھرتیوں کی نشاندہی ہوئی ہے، ان میں سے 500 کا تعلق ائیرپورٹ سیکیورٹی فورس ( ایوی ایشن ڈویژن ) سے جبکہ بقیہ 299 کا دیگر محکموں اور ڈویژنز سے ہے۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ ائیر پورٹ سیکیورٹی فورس کے 500 کیسز ( ماسوائے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر تعیناتی کے) کا تعلق گریڈ 17 سے 19 تک کے عہدوں سے ہے اور ائیرپورٹ سیکیورٹی فورس ایکٹ 1975ء کے تحت گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے گریڈز کی سیٹوں پر تعیناتی حکومت کی منظوری سے ہی کی جا سکتی ہے۔

لہذا ایوی ایوی ایشن ڈویژن کو ائیرپورٹ سیکیورٹی فورس ایکٹ 1975ء میں فوری طور پر ترمیم کرکے گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے عہدوں پر تعیناتی کی ذمہ داری سے وفاقی حکومت کو آزاد کر دینا چاہیے مگر ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی کو حکومت کی منظوری سے مشروط رکھا جائے۔

یہ بھی پڑھیے :

خیبرپختونخوا میں پہلا ڈیجیٹل سٹی کتنے ہزار ملازمتیں دے سکے گا؟

ای کامرس کی بدولت لاکھوں نوکریاں، جی ڈی پی میں اربوں ڈالر کا اضافہ ممکن 

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا مزید کہنا تھا کہ ہر ڈویژن کو ہر کیس کا انفرادی طور پر جائزہ لے کر اسے ex-post facto منظوری کے لیے بھجوانا چاہیے بہ شرط یہ کہ کوئی تعیناتی  ناجائز طریقے سے نہ کی گئی ہو اور نہ کسی تعیناتی کا معاملہ نیب، ایف آئی اے یا کسی دوسرے ادارے میں زیر تفتیش ہو۔

اگر کوئی ایسا کیس سامنے آ جائے جس میں کسی کی  تعیناتی ناجائز طریقے سے کی گئی ہو تو متعلقہ ڈویژن کو اس کی تحقیقات کرکے کارروائی کرنی چاہیے۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا مزید کہنا تھا کہ تمام ڈویژنز کو تعیناتیوں کی شفافیت پر کڑی نگاہ رکھنی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ تمام تعیناتیاں مجاز اتھارٹی کی جانب سے کی جائیں چاہے پھر یہ تعیناتی ، قائم مقام، اضافی یا پھر حتمی بنیاد پر ہی کیوں نہ کی جائے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here