ایف بی آر اور بڑے ریٹیلرز کے درمیان ٹیکس چھوٹ کا معاہدہ طے پا گیا

معاہدے کے تحت خود کو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت ایف بی آر کے ساتھ رجسٹر کروانے والے ریٹیلرز کے لیے ٹیکس کی شرح میں کمی کی جائے گی، ایف بی آر ریٹیلرز کا گزشتہ چھ برس کا ریکارڈ نہ چیک کرنے پر بھی آمادہ

151

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ایک بار پھر بڑے ریٹیلرز کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر ) کے ساتھ رجسٹر کروانے کے عوض ٹیکس چھوٹ دینے کی اجازت دے دی۔

اس اجازت کے تحت حکومت انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترمیم کے ذریعے ٹیکسوں کی شرح میں کمی کرے گی اور ایسا منی بجٹ یا اگلے بجٹ میں کیا جائے گا۔

اس سلسلے میں ایف بی آر اور بڑے ریٹیلرزکےدرمیان معاہدہ طے پاگیا ہے، فریقین کے مایبن یہ اس قسم کا دوسرا معاہدہ ہے اور ابھی تک پہلے معاہدے پر عمل درآمد شروع نہیں کیا گیا۔

ایف بی آر نے بڑے ریٹیلرز کے لیے رجسٹریشن کی ڈیڈ لائن بھی نومبر 2020ء تک بڑھا دی ہے، پہلے یہ ڈیڈ لائن دسمبر 2019ء تک مقرر کی گئی تھی۔

فنانس ایکٹ 2019ء میں بڑے ریٹیلرز کے لیے ایف بی آر کے ساتھ خود کو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ء تحت رجسٹر کروانا لازمی قرار دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے :

ایف بی آر اور پی ایس ایم اے کے درمیان چینی کی پیداوار کی الیکٹرنک نگرانی کا معاہدہ

ایف بی آر کی کارروائی : ایل پی جی کمپنی کی اربوں روپے کی منی لانڈرنگ بے نقاب

اس کے علاوہ ایف بی آر بڑے ریٹیلرز کے پچھلے چھ سال کے ریکارڈ کی چھان بین نہ کرنے پر بھی آمدہ ہو گیا ہے۔

ریٹیل سیکٹر کا قومی آمدن میں حصہ 19  فیصد ہے مگراس شعبے سے مجموعی ٹیکس آمدن صرف 3.7 فیصد ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ آیا حکومت نے آئی ایم ایف کو ریٹیلرز کے ساتھ اس معاہدے سے متعلق آگاہ کیا ہے یا نہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here