پاکستان کا گاڑیوں میں سی این جی کے بجائے ایل این جی استعمال کرنے کا فیصلہ، فائدہ کیا ہوگا ؟

گاڑیوں میں ایل این جی کے استعمال سے مقامی قدرتی گیس کی بچت ہوگی جسے صنعتوں کو فراہم کیا جاسکے گا، پٹرول سے سستی ہونے کے باعث ٹرانسپورٹ سیکٹر کو فائدہ ہوگا، ملکی امپورٹ بل میں کمی آئے گی

255

اسلام آباد : پاکستان اکانومی واچ نے حکومت کی جانب سے گاڑیوں میں سی این جی کے بجائے آر ایل این جی (Regasified Liquefied Natural Gas)  کے استعمال کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

ادارے کے چئیرمین بریگیڈئیر ریٹائرڈ اسلم خان کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ حکومت کے اس فیصلے کے باعث ملک کی تیل کی درآمد میں 20 فیصد کمی آ جائے گی۔

اس وقت ملک میں سی این جی سٹیشنز کو آر ایل این جی سٹیشنز میں تبدیل کرنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث مستقبل میں  ان سٹیشنز کو قدرتی گیس نہیں فراہم کی جائے گی۔

اس کے بجائے ان سٹیشنز پر درآمد شدہ ایل این جی فراہم کی جائے گی اور اس اقدام کے باعث سردیوں میں بھی یہ سٹیشنز کھلے رہیں گے اور عوام گاڑیوں میں گیس بھروا سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیے :

تیل و گیس کے پیداواری شعبہ میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 36.65 فیصد اضافہ

ایل این جی کی درآمد کے لیے نجی شعبے کے انتظامات مکمل، لیگل فریم ورک کے نفاذ کا انتظار

پاکستان اکانومی واچ کے سربراہ کا پرافٹ اردو سے گفتگو میں کہنا تھا کہ گاڑیوں میں سی این جی کی جگہ ایل این جی کے استعمال سے جہاں ملکی آئل درآمدی بل میں کمی آئے گی وہیں ماحولیاتی آلودگی کی صورتحال بھی بہتر ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایل این جی پٹرول کی نسبت 20 سے 25 فیصد سستی ہے اور اس کے استعمال کی وجہ سے ٹرانسپورٹ شعبے اور اس سے جڑے لاکھوں لوگوں کو بہت فائدہ ہو گا۔

مزید برآں ایل این جی کی درآمد سے حکومت ٹرمینلز کی خالی پڑی جگہ کو استعمال کر سکے گی جس کے استعمال میں نہ ہونے کی وجہ سے بھاری نقصان ہورہا تھا ۔

اس اقدام سے ٹرمینلز پر فی یونٹ چارجز میں کمی آئے گی اور نجی شعبے کی جانب سے نئے ٹرمینلز بھی تعمیر کیے جائیں گے۔

بریگیڈئیر ریٹائرڈ اسلم خان کا مزید کہنا تھا کہ ایل این جی کی آمد سے مقامی گیس کی بڑی مقدار میں بچت ہوگی جسے صنعتوں کو فراہم کیا جاسکے گا یوں موسم سرما میں صنعتیں بند نہیں ہونگی اور لوگ بھی بیروزگار نہیں ہونگے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here