زرمبادلہ کے ذخائر ، یورو بانڈز کے اجراء سے متعلق خبر جھوٹ پر مبنی ہے: وزارت خزانہ

زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم، معمولی کمی کمرشل بنکوں کی قرض ادائیگیوں کے باعث ہوئی، آئی ایم ایف کا پروگرام بھی معطل نہیں ہوا، مشکل اہداف کے حصول کا وقت ایڈجسٹ کیا جائے گا، بیرونی سیکٹر کو کوئی خطرہ نہیں بانڈز اگلے برس جنوری یا فروری میں بین الاقوامی مارکیٹ میں متعارف کروا دیے جائیں گے : وزارت خزانہ

76

اسلام آباد : وزارت خزانہ نے  پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی ہونے اور آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے بغیر بانڈز کا اجرا نہ ہو پانے کی خبروں کی تردید کر دی۔

خزانہ ڈویژن سے جاری بیان میں اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ ‘یہ خبریں جھوٹ پر مبنی اور بے بنیاد ہیں، پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہیں اور ان میں جس کمی کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے وہ معمولی ہے اور اس کی وجہ کمرشل بنکوں سے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی ہے۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارت خزانہ ان قرضوں کی ری فنانسنگ کا کام مکمل کر چکی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر سے نکلنے والے فنڈز دو سے تین ہفتوں میں دوبارہ واپس آ جائیں گے۔

مزید برآں زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام کی جھلک ملکی کرنسی کی قدر میں بہتری میں دیکھی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

مالی سال 2021 میں پاکستانی معیشت کس حال میں ہوگی؟ آئی ایم ایف رپورٹ جاری

گوگل کا آن لائن کاروباروں کی ترقی کیلئے لاکھوں ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ

خزانہ ڈویژن کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام تعطل کا شکار نہیں ہوا بلکہ خزانہ سمیت دیگر متعلقہ وزارتیں اور مرکزی بنک متعدد پالیسی معاملات پر انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ساتھ مسلسل مشاورت میں مصروف ہیں جس کے نتیجے میں آئی ایم ایف کورونا کی پیدا کردہ مشکل حالات سے نمٹنے کے حوالے سے  حکومت پاکستان کو مسلسل رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ سچ ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے اہداف مشکل ہیں مگر ان کے حصول کے وقت کو موجودہ معاشی حالات کے تناظر میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔

خزانہ ڈویژن نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے یورو بانڈ  یا بین الاقوامی سکوک جاری کرنے کے حوالے سے کام جاری ہے اور اس مقصد کے لیے وزارت خزانہ نے مالیاتی مشیر کی خدمات حاصل کرنے پر کام شروع کر دیا ہے جو کہ نومبرکے وسط تک پورا کر لیا جائے گا۔

تمام ضروری اقدامات کرنے کے بعد یہ بانڈز اگلے برس جنوری یا فروری میں بین الاقوامی مارکیٹ میں متعارف کروا دیے جائیں گے۔

یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ پاکستان کے جاری کردہ بانڈزپر آمدن کورونا سے پہلی والی سطح پر واپس آ گئی ہے اور یہ اچھا کاروبار کر رہے ہیں جس سے سرمایہ کاروں کا پاکستانی معیشت پر اعتماد ظاہر ہوتا ہے لہذا حکومت کو میڈیم ٹرم نوٹ کے بانڈز کے اجرا کے حوالے سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔

مزید برآں اس بیان میں وزارت خزانہ نے  واضح طور پر بتایا ہے کہ پاکستان کے بانڈ پروگرام یا بیرونی سیکٹر کے استحکام کو کوئی خطرہ لاحق نہیں اور اس حوالے سے گردش کرنے والی تمام خبریں جھوٹ کا پلندہ ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here