انسٹا گرام کا خفیہ اشتہار بازی پر مبنی کانٹینٹ کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

انسٹا گرام پر زیادہ فالوورز رکھنے والے بااثر افراد مختلف کمپنیوں کی مصنوعات کی تشہیر کرتے ہیں مگر فالوورز کو نہیں بتاتے کہ انہوں نے معاوضہ وصول کیا ہے،کمپنی کے مطابق یہ کاروباری شفافیت اور مسابقت کے اصولوں کے خلاف ہے

145
FILE PHOTO: Silhouettes of mobile users are seen next to a screen projection of the Instagram logo in this picture illustration taken March 28, 2018. REUTERS/Dado Ruvic/Illustration/File Photo

لندن : فیس بک کی ملکیت معروف فوٹو اینڈ ویڈیو شئیرنگ پلیٹ فارم انسٹا گرام نے نام نہاد بااثر افراد کی جانب سے خفیہ طور کی جانے والی اشتہاری بازی کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کر لیا۔

یہ بااثر افراد کمپنیوں سے ان کی مصنوعات کی تشہیر کے لیے بھاری فیس چارج کرتے ہیں اور یہ ظاہر بھی نہیں ہونے دیتے کہ وہ دراصل پیسے لے کر کسی پراڈکٹ کی تشہیر کر رہے ہیں۔

برطانیہ کی کمپی ٹیشن اینڈ مارکیٹ اتھارٹی ( سی ایم اے ) نے انسٹا گرام کے اس اقدام کو پالیسی میں بڑی تبدیلی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے نام نہاد بااثر افراد خفیہ طور پر کسی کمپنی کی پراڈکٹ کی تشہیر نہیں کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیے:

فیس بک، سیاسی اشتہارات پر پابندی امریکی انتخابات کے بعد شروع ہو گی

دراز ڈاٹ پی کے پر سوشل میڈیا کے جعلی فالوورز کی خریدو فروخت کا انکشاف

اس حوالے سے فیس بک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کمپنی کاروباری طریقوں میں شفافیت کے لیے برطانیہ کی کمپی ٹیشن اینڈ مارکیٹ اتھارٹی کے ساتھ  کام کرکے خوش ہے اور ایسے لوگوں کو لگام ڈالی جائے گی جو پیسے لے کر انسٹاگرام پر کانٹینٹ پوسٹ کرتے ہیں۔

کمپنی کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ وہ ”میڈیا سمارٹ ” کے نام سے ایک پروگرام بھی لانچ کرنے والی ہے جس کی مدد سے نوجوانوں میں برانڈڈ کانٹینٹ کی نشاندہی کی صلاحیت پیدا ہو سکے گی۔

برطانیہ کی کمپی ٹیشن اینڈ مارکیٹ اتھارٹی نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ وہ ایسے بہت سے کیسز کی تحقیقات کر رہی ہے جس میں انسٹا گرام پر نام نہاد بااثر افراد نے اپنے فالوورز کو بنا بتائے کسی چیز کی تشہیر کی۔

اتھارٹی کا مزید کہنا تھا کہ ان با اثر افراد کو اپنے کانٹینٹ میں کسی چیز کی تشہیر کرتے ہوئے اپنے فالوورز کو یہ بتانا ہوگا کہ اس کام کے لیے انہوں نے متعلقہ کپنی سے پیسے لیے ہیں یا نہیں۔

اُدھر اسٹا گرام نے  بھی ایسے افراد کی نشاندہی کے لیے ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا ہے کہ جو اپنے کانٹینٹ میں اس چیز کی وضاحت نہیں کرتے کہ آیا یہ اشتہار بازی ہے یا نہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here