کے پی میں دو توانائی منصوبوں کیلئے پاکستان، عالمی بنک کے درمیان 1.15 ارب ڈالر کے معاہدے

یہ منصوبہ جات خیبرپختونخوا میں تعمیر کیے جائیں گے اور ان سے 245 میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی، داسو ہائیڈرو پاور فیز ون سے 2 ہزار 160 میگاواٹ بجلی کی ترسیل کے لیے ٹراسمیشن لائن بچھانے کے لیے معاونت کا معاہدہ بھی طے

311

اسلام آباد: پاکستان اور عالمی بنک کے درمیان خیبر پختونخوا میں توانائی اور ہائیڈرو پاور منصوبوں کی تعمیر کے لیے 1.15 ارب روپے کے دو معاہدے طے پا گئے۔

ان منصوبہ جات میں 450 ملین ڈالر کا کے پی ہائیڈرو پاور اینڈ ری نیو ایبل انرجی ڈیویلپمنٹ پراجیکٹ پر خرچ ہوں گے جبکہ 700 ملین ڈالر داسو ہائیڈرو پاور فیز ون سے بجلی کے حصول پر خرچ کیے جائیں گے۔

ہہلے منصوبے کے تحت 88 میگا واٹ کا گبرال کالام ہائیڈرو پاور اور 157 میگاواٹ کا  مدین ہائیڈرو پاور پراجیکٹ قائم کیے جائیں گے جن سے خیبرپختونخوا میں پن بجلی کی پیداواری صلاحیت سے فائدہ اُٹھایا جاسکے گا۔

دوسرے منصوبے کے تحت نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی ( این ٹی ڈی سی ) داسو ہائیڈرو پاور منصوبے سے بذریعہ مانسہرہ اسلام آباد تک 765 کلو واٹ کی ڈبل سرکٹ ٹرانسمیشن لائن بھچائے گی۔

اس منصوبے کے تحت داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ فیز ون سے دو ہزار  160 میگاواٹ بجلی حاصل کی جائے گی اور پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو فراہم کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے :

متبادل توانائی پالیسی منظور، مقامی وسائل سے بجلی کی پیداوار 80 فیصد تک لے جانے پر کام شروع

پنشن اصلاحات: پاکستان نے ورلڈ بنک سے تکنیکی معاونت مانگ لی

ان معاہدوں پر ورلڈ بنک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجی بن حسائن، وفاقی سیکرٹری اقتصادی امور نور احمد اور کے پی حکومت اور این ٹی ڈی سی کے نمائندگان نے دستظ کیے۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان، معاشی امور کے وزیر مخدوم خسروبختیار اور وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان بھی موجود تھے۔

ان معاہدوں پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہائیڈرو پاور توانائی کے حصول کا صاف ستھرا ذریعہ ہے اور پن بجلی کے منصوبے حکومت کی ترجیح ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت بنائے جانے والے پن بجلی کے دو نئے منصوبے 245 میگاواٹ بجلی پیداکریں گے جس سے ملک کا تیل سے بننے والی  مہنگی بجلی پر انحصار کم ہوگا۔

انہوں نے ورلڈ بنک کی جانب سے پاکستان میں قابل تجدید توانائی کے شعبہ کے لیے آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی پر بنک کا شکریہ بھی ادا کیا۔

اس موقع پر ورلڈ بنک کے کنٹری ڈائریکٹر نے پاکستان کی مدد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور کورونا سے بچاؤ کے لیے حکومتی اقدامات کی تعریف کی اورحکومت کی جانب سے منصوبہ جات کی مینجمنٹ کے سلسلے میں اصلاحات لانے کے اقدامات کو بھی سراہا۔

معاشی امور کے وزیر مخدوم خسرو بختیار نے اس موقع پر عالمی بنک کی جانب سے پاکستان کی مسلسل مدد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک میں بنیادی اصلاحات لانے کے لیے پر عزم ہے۔

انہوں نے ورلڈ بنک کی جانب سے ملکی زرعی شعبے کی بہتری اور ٹڈی ڈل پر قابو پانے کے لیے بیس کروڑ ڈالر کی مدد فراہم کیے جانے کو بھی سراہا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here