بجلی مہنگی، ٹیکسٹائل ملز مالکان کے صبر کا پیمانہ لبریز

71

لاہور: آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے ستمبر کے بلوں میں پاور ٹیرف میں 7.5 سینٹ فی کلو واٹ سے 9 سینٹ فی کلوواٹ اضافے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاور ٹیرف میں اضافے سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔

اجلاس کے دوران اپٹما اراکین نے کہا کہ ستمبر کے بلوں میں 7.5 سینٹ فی کلوواٹ کے مقابلے میں 9 سینٹ فی کلوواٹ اضافہ کیا گیا ہے جو گزشتہ ماہ کے پاور ٹیرف سے 20 فیصد زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے 2020 حکومت اور انڈسٹری دونوں کے لیے مسائل کا سبب بنا، مارکیٹیں بند ہونے کی وجہ سے برآمدات میں واضح کمی کے پیش نظر انڈسٹری پاور ٹیرف 7.5 سینٹ فی کلوواٹ رکھنے کی توقع کر رہی تھی۔

شرکاء نے کہا کہ اوسط ریجنل پاور ٹیرف 7 سینٹ فی کلو واٹ سے زیادہ نہیں، پاور ٹیرف میں یہ نیا اضافہ خطے میں پاکستان کی ٹیکسٹائل ویلیو چین کو غیر مسابقتی بنا دے گا۔

یہ بھی پڑھیے:

اپٹما کا برآمدات پر ڈیوٹی ڈرا بیک کی شرح میں بہتری لانے کا مطالبہ

کورونا کی معاشی تباہ کاریاں : ملکی ٹیکسٹائل شعبے کی برآمدات میں 62 فیصد کمی

یہ بھی بتایا گیا کہ ویت نام، سری لنکا، ملائیشیا، بنگلہ دیش، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ اور بھارت کی نسبت پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی لاگت 26 فیصد زیادہ ہے جبکہ گھریلو صارفین کے لیے خطے کے دیگر ملکوں کے مقابلے میں بجلی 28 فیصد زیادہ مہنگی ہے۔

خیال رہے کہ ٹیکسٹائل ویلیو چین میں زیادہ تر ایس ایم ایز بغیر گیس کنیکشن کے چل رہے ہیں جس کا مطلب ایسے ایس ایم ایز کو خطے کے دیگر ممالک کے خلاف زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اپٹما اراکین نے وزیراعظم عمران خان اور وزیربرائے توانائی عمرایوب سے حالات پر قابو پانے کے لیے ملک کی برآمدات، روزگار اور سرمایہ کاری کے وسیع تر مفاد میں بجلی کی ترسیلی کمپنیوں کو بجلی کے بل جلد واپس لینے کی درخواست کی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here