وفاقی کابینہ نے ایگزم بنک آف پاکستان ایکٹ 2020 کے نفاذ کی منظوری دے دی

بنک کا قیام 2015 میں عمل میں آیا تھا جس کا مقصد برآمد اور درآمد کنندگان کو کریڈٹ، گارنٹی اور انشورنس مصنوعات کی فراہمی کے ذریعے عالمی برادری کے ساتھ تجارت میں اضافہ کرنا تھا۔

300

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ایکسپورٹ امپورٹ بنک آف پاکستان ایکٹ 2020ء ناٖفذ کرنے کی منظوری دے دی۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے یہ اقدام وزارت خزانہ کی تجویز پر اُٹھایا جس نے اس حوالے سے سینئیر حکومتی اور قانونی ماہرین کی سفارشات موصول ہوئیں تھیں۔

ایگزم  (EXIM) بنک آف پاکستان کا قیام 2015ء میں عمل میں آیا تھا جس کا مقصد برآمد اور درآمد کنندگان کو کریڈٹ، گارنٹی اور انشورنس مصنوعات کی فراہمی کے ذریعے عالمی برادری کے ساتھ تجارت میں اضافہ کرنا تھا۔

بنک کو ڈیویلپمنٹ فنانس کا ادارہ قرار دیا گیا تھا اور اسے کمپنیز آرڈیننس 1984ء کے تحت سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے ساتھ رجسٹرڈ بھی کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے :

امریکہ نے 18 ایرانی بنکوں پر اقتصادی پابندیاں کیوں عائد کیں؟

مالی سال 2021 میں پاکستانی معیشت کس حال میں ہوگی؟ آئی ایم ایف رپورٹ جاری

ذرائع کے مطابق بنک کا authorized capital ایک سو ارب روپے تھا جبکہ اس کا پیڈ اَپ کیپیٹل دس ارب روپے ہے جس کی مد میں حکومت  نے اب تک سات ارب روپے جاری کیے ہیں۔

مزید برآں ایشیائی ترقیاتی بنک نے بھی حکومت پاکستان کی درخواست پر 2018ء میں ایکسپورٹ امپورٹ  بنک آف پاکستان کے آپریشنز کے لیے پانچ لاکھ ڈالر کی گرانٹ دی تھی، یہ گرانٹ بنیادی طور تکنیکی مدد تھی جو International legal experts of IFCI کینیڈا کے تعاون سے فراہم کی گئی۔

اس تکینکی مدد کا ایک پہلوایکسپورٹ امپورٹ بنک کے ایکٹ کی تیاری بھی تھا جس کے تحت بنک کو برآمد کنندگان کو سہولیات کی فراہمی کے لیےضروری اختیارات سے لیس کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق امپورٹ ایکسپورٹ بنک آف پاکستان ایکٹ وزارت خزانہ نے تیار کیا ہے اور اس کے لیے متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی سٹیرنگ کمیٹی، جس میں خزانہ اور تجارت ڈویژن کے اہلکار شامل تھے، سٹیٹ بنک آف پاکستان، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور International legal experts of IFCI کی مدد حاصل کی گئی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here