‘ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی سٹیمپنگ ختم کرنا غلط ، اشیا چوری، ملکی مارکیٹ میں فروخت ہوسکتی ہیں ‘

کراچی بندرگاہ پرافغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی اشیا کی سٹیمپنگ ختم کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے کیونکہ بغیر سٹیمپنگ کے یہ اشیا ملکی مارکیٹ میں فروخت ہوسکتی ہیں جس سے مقامی صنعت اور حکومتی ریونیو کو زبردست نقصان پہنچے گا : ٹائر مینوفیکچورنگ انڈسٹری

222

اسلام آباد : ملکی ٹائر مینوفیکچورنگ سیکٹر نے حکومت سے کراچی بندرگاہ پر افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی اشیا کی سٹیمپنگ ختم کرنے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کردیا ۔

ٹائر سازی کی صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ پورٹ قاسم پر افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی اشیا کی سٹیمپنگ ختم ہونے سے  سمگلنگ کی روک تھام کے تمام اقدامات اور ملکی صنعت کو نقصان ہوگا۔

اس حوالے سے جنرل ٹائر اینڈ ربڑ کمپنی آف پاکستان کے ترجمان کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی اشیا کی کراچی بندرگاہ پر سٹیمپنگ نہ  ہونے سے  ملک میں ان اشیا کی چوری کو فروغ ملے گا۔

انکا کہنا تھا کہ کراچی پورٹ سے افغانستان بھیجے جانے والے سامان کی سٹیمپنگ بہت ضروری ہے کیونکہ اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو ان اشیا کی ملک میں غیر قانونی فروخت کا  موقع پیدا ہوجائے گا اور حکومت کی جانب سے سمگلنگ کے خلاف اُٹھائے جانے والے اقدامات بے معنی ہوکر رہ جائیں گے۔

مزید برآں اس سامان کی ملکی مارکیٹوں میں فروخت سے جہاں مقامی صنعتوں کو نقصان پہنچے گا وہیں حکومت بھی اربوں روپے کے ریونیو سے ہاتھ دھو بیٹھے گی۔

یہ بھی پڑھیے :

گوادر بندرگاہ کو افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے استعمال کرنے کی اجازت

ستمبر میں پاکستان کے تجارتی خسارے میں 19.5 فیصد اضافہ

انکا کہنا تھا کہ سٹیمپنگ سے افغان ٹرانزٹ کی ان اشیا کی پہنچان کی جاسکتی ہے جو بیرون ملک سے درآمد پر کراچی میں اتاری گئیں یا افغان بارڈر سے سمگلنگ کے ذریعے واپس پاکستان میں آگئیں۔

واضح رہے کہ سمگلنگ ملکی ٹائر انڈسٹری کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جو کہ مقامی مانگ کا پندرہ فیصد پیدا کرتی ہے۔ بقیہ 85 فیصد مانگ  میں سے 20 فیصد درآمد کے ذریعے جبکہ 65 فیصد سمگلنگ کے ذریعے پوری ہورہی ہے۔

جنرل ٹائر اینڈ ربڑ کمپنی آف پاکستان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ملکی ٹائر سازی کی صنعت ملکی ضرورت پورا کرنے میں حصہ ڈالنے کے علاوہ ملازمتیں اور حکومت کے لیے ریونیو بھی پیدا کرتی ہے لیکن سمگلنگ کی وجہ سے ملک میں ٹائر بنانے والے کارخانے کاروبار بند کرنے پر مجبور ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ جنرل ٹائر ملک کی ٹائر سازی کی صنعت کا سب سے بڑا ادارہ ہے مگر بارڈر پار سے ہونے والی سمگلنگ کی وجہ سے یہ بھی شدید مسائل کا شکار ہے۔

انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ملکی انڈسٹری کی بقا اور سمگلنگ کی روک تھام کے لیے کراچی بندرگاہ پر افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی اشیا کی سٹیمپنگ کا عمل دوبارہ شروع کیا جائے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here