متبادل توانائی پالیسی منظور، مقامی وسائل سے بجلی کی پیداوار 80 فیصد تک لے جانے پر کام شروع

2030ء تک متبادل ذرائع سے 30 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کی جائے گی، حکومت 2047ء تک ایک لاکھ میگاواٹ بجلی ملکی وسائل سے پیدا کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا

286

اسلام آباد: حکومت نے مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار ختم کرنے کے لئے ملکی وسائل سے توانائی کی پیداوار 80  فیصد تک بڑھانے کے منصوبے پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔

پاور ڈویڑن کے ذرائع کے مطابق تمام متعلقہ فریقین کی مشاورت سے متبادل توانائی پالیسی کی منظوری دی گئی ہے اور سندھ اور بلوچستان اس سے سب سے زیادہ مستفید ہوں گے جہاں پر زیادہ سے زیادہ شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے لگائے جائیں گے۔

ایک مربوط پروگرام کے تحت ان علاقوں میں بجلی پیدا کرنے کے لئے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے جس سے 2025ء تک انرجی مکس میں متبادل توانائی کا حصہ 20 فیصد اور 2030ء تک 30 فیصد بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

2025ء تک متبادل توانائی کے ذریعے 8 ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کی جائے گی جسے بعد ازاں 2030ء تک 30 ہزار میگاواٹ بڑھا دیا جائے گا۔

موجودہ حکومت 2047ء تک ایک لاکھ میگاواٹ بجلی ملکی وسائل سے پیدا کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ متبادل توانائی کے منصوبوں سے پیدا وار شروع ہونے کے نتیجہ میں توانائی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here