بورڈ آف ریونیو پنجاب اور ایف بی آر کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ کے معاہدے پر دستخط

100 تحصیلوں میں رجسٹری کا نظام کمپیوٹرائزڈ کر دیا، چار ممالک کے سفارت خانوں میں اوورسیز اراضی ریکارڈ سینٹر بنائے گئے ہیں، وزیراعلیٰ بزدار

95

لاہور: بورڈ آف ریونیو پنجاب اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مابین ڈیٹا شیئرنگ کا معاہدہ طے پا گیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سوموار کو بورڈ آ ف ریونیو پنجاب کا دورہ کیا جہاں ان کی زیر صدارت اعلی سطح کا اجلاس ہوا جس میں بورڈ آف ریونیو، پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی اور پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے بورڈ آف ریونیو کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا اور افسروں و عملے سے ملاقات کی، انہوں نے صوبے میں قانون گوئی سطح پر قائم 115 اراضی ریکارڈ سینٹرز، سٹیلائٹ اراضی ریکارڈ سینٹرز اور 20 موبائل اراضی سینٹرز کا افتتاح کیا۔

وزیراعلیٰ نے موبائل اراضی سینٹرز کا معائنہ کیا، اس دوران بورڈ آف ریونیو پنجاب اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے مابین ڈیٹا شیئرنگ کے معاہدے پر دستخط بھی کیے گئے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ سٹیلائٹ اراضی ریکارڈ سینٹر کے ذریعے 32 قانون گوئیوں میں موضع کی سطح پر اراضی ریکارڈ کی خدمات فراہم کی جائیں گی جبکہ 100 تحصیلوں میں رجسٹری کے نظام کو کمپیوٹرائزڈ کر دیا گیا ہے اور رجسٹری کے بعد خودکار طریقہ کار انتقال اراضی کے عمل کو صوبہ بھر میں توسیع دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چار ممالک کے سفارت خانوں میں اوورسیز اراضی ریکارڈ سینٹر بنائے گئے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے سفارت خانوں میں اراضی ریکارڈ سے متعلقہ خدمات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ صاف و سرسبز اراضی ریکارڈ سینٹر مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس مہم کے تحت اراضی ریکارڈ سینٹر میں شجرکاری مہم کے تحت پودے لگائے جا رہے ہیں۔

وزیراعلی نے بورڈ آف ریونیو میں اعلی سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ آف ریونیو کے فیلڈ سٹاف کی ری سٹرکچرنگ کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ریونیو عوامی خدمت کچہریاں لگائی جا رہی ہیں۔ ریونیو سے متعلقہ افسر اور عملہ کچہریوں میں موجود ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے دس برس بعد جمع بندی کی پرنٹنگ اور اَپ گریڈنگ کے کام کا آغاز کیا ہے۔ دوبرس کے دوران ایک لاکھ 40 ہزار ایکڑ سے زائد اراضی قبضہ مافیا سے واگزار کرائی ہے جس کی مالیت ایک ہزار ارب روپے سے زائد ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here