فیس بک، سیاسی اشتہارات پر پابندی امریکی انتخابات کے بعد شروع ہو گی

پابندی امیدواروں کی جانب سے وقت سے پہلے کامیابی کے اعلان، سرکاری نتائج تسلیم کرنے سے انکار اور ووٹرز کو ڈرانے دھمکانے جیسے عوامل سے نمٹنے کیلئے لگائی جائے گی

63

کیلیفورینا: سماجی رابطوں کی معروف ویب سائٹ فیس بک نے کہا ہے کہ وہ 2020ء کے امریکی انتخابات کے دوران امیدواروں کے وقت سے پہلے کامیابی کے اعلان، سرکاری نتائج تسلیم کرنے سے انکار اور ووٹرز کو ڈرانے دھمکانے جیسے عوامل سے نمٹنے کے لیے سیاسی اشتہارات پر الیکشن کے بعد ایک ہفتے کے لیے پابندی عائد کر دے گا۔

اس سلسلے میں فیس بک نے اعلان کیا ہے کہ 3 نومبر کو امریکہ میں صدارتی انتخابات کی پولنگ کے اختتام کے بعد اس کے پلیٹ فارم پر سیاسی اشتہارات روک دیئے جائیں گے۔

فیس بک کے مطابق یہ پابندی انتخابات کے بعد ایک ہفتے تک برقرار رہے گی اور صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے اس میں مزید توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

کمپنی کا منصوبہ ہے کہ ایسی سوشل میڈیا پوسٹس جو انتخابات کے نتائج پر شبہات پیدا کریں، ان کے ساتھ سرکاری معلومات کے لنک لگا دیئے جائیں گے تاکہ جعلی خبروں کا تدارک ہو سکے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے پہلے ہی ایسے پیغامات پر پابندی لگا دی ہے جو پولنگ کی جگہوں پر اسلحہ لے جانے کی ترغیب دیتے ہیں یا ووٹنگ کے عمل پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے فیس بک نے اعلان کیا تھا کہ یہ پابندی انتخابات سے ایک ہفتہ پہلے لگائی جائے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here