حکومتی فیس میں انتہا درجے کا اضافہ، پھلوں اور سبزیوں کی برآمد مکمل رک جانے کا خدشہ

حکومت نے پھلوں اور سبزیوں کے کنٹینر کےلیے جاری کیے جانے والے فائیٹو سینٹری سرٹیفکیٹ کی فیس میں آٹھ سو گنا اضافہ کردیا، بھارت میں اس ضمن مں فیس زیادہ سے زیادہ 1.36 ڈالر، سری لنکا میں 0.87 ڈالر، اور بنگلہ دیش میں 0.24 ڈالر ہے جبکہ پاکستان میں حکومت نے اسے 2500 روپے کردیا ہے

372

اسلام آباد: ہارٹی کلچر ایکسپورٹرز کا کہنا ہے کہ  حکومت کی جانب سے فائیٹو سینٹری سرٹیفیکیٹس کی فیس 800  گنا بڑھانے کے باعث برآمدات میں معمولی اضافہ  تو درکنار انہیں برقرار رکھنا  بے حد مشکل ہو گیا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ وزارت خوراک نے بغیر کسی وجہ کے ایکسپورٹ کنسائنمنٹس کے لیے فائیٹو سینٹری سرٹیفیکیٹس کی فیس میں اضافہ کر دیا ہے۔

حکومت کہ جانب سے عائد کی گئی فیس کا حجم پڑوسی ملک بھارت کی نسبت کئی گنا زیادہ ہے، ستمبر سے اضافہ شدہ فیس کی وصولی کے باعث برآمد کننگان کو فائیٹو سینٹری سرٹیفیکیٹس کے حصول کے لیے 300 روپے کے بجائے 2500 روپے دینا پڑ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے :

ستمبر میں ملکی برآمدات گزشتہ برس کی نسبت چھ فیصد بڑھ گئیں

یورپی یونین سے تجارتی معاہدہ میں ناکامی برطانیہ کو کس قدر مہنگی پڑ سکتی ہے؟

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹ ایسوسی ایشن کے سربراہ  وحید احمد نے اس حوالے سے وزارت خوراک کو ایک خط لکھ  کر اپنے تحفظات اور مشکلات سے آگاہ کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ‘فائیٹو سینٹری سرٹیفکیٹس کی فیس میں حالیہ اضافہ  متعلقہ برآمدکنندگان کے ساتھ مشاورت کے بغیر کیا گیا جس سے برآمدات مزید مہنگی ہونے پر عالمی مارکیٹ میں حریفوں کے ساتھ مقابلہ کرنا بہت مشکل ہوجائے گا۔’

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک طرف حکومت سبزیوں اور پھلوں کی برآمد میں اضافے کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہی ہے تو دوسیری طرف وزارت خوراک نے فائیٹو سینٹری سرٹیفکیٹس کی فیس میں ہوشربا اضافہ کر دیا ہے جو حکومتی اداروں کی نیت کی سنجیدگی  پر سوالات پیدا کرنے کے مترادف ہے۔  فیس میں یہ اضافہ غیر حقیقی بنیادوں پر کیا گیا ہے اور اس کا برآمدات پر بہت برا اثر پڑے گا ۔

دیگر ممالک کے ساتھ فائیٹو سینٹری سرٹیفکیٹس  فیس کا موازنہ کرتے ہوئے وحید احمد کا کہنا تھا کہ بھارت میں اس ضمن مں فیس زیادہ سے زیادہ 1.36 ڈالر، سری لنکا میں  0.87 ڈالر، اور بنگلہ دیش میں 0.24 ڈالر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلے اس ضمن میں 300 روپے فیس لی جاتی تھی جو پہلے ہی خطے میں سب سے زیادہ تھی مگر اب تو اتنہا ہی کر دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک سے زائد کنٹینرز کے لیے فائیٹو سینٹری سرٹیفیکیٹس لیا جاتا ہے اور ہر کنٹینر کے لیے کنٹینر  فیس الگ سے ادا کی جاتی ہے جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری برآمدات کس قدر مہنگی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کورونا کے بعد ہوائی راستے سے سبزیوں اور پھلوں کی برآمد انتہائی مشکل ہو گئی ہے کیونکہ فضائی کمپنیوں نے کرایوں میں زبردست اضافہ کر دیا ہے۔ ایسے میں فائیٹو سینٹری سرٹیفیکیٹس کی فیس میں ہوشربا اضافے نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس صورتحال میں  ہوائی راستے سے پھلوں اور سبزیوں کی برآمد  مکمل طور پر رک جانے کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا۔

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹ ایسوسی ایشن کے سربراہ  وحید احمد نے حکومت سے فائیٹو سینٹری سرٹیفکیٹ کی فیس میں غیر معمولی اضافے پر نظر ثانی کی اپیل کی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ملکی مفاد اسی میں ہے کہ اس فیس کو معقول بنایا  جائے تاکہ عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی برآمدات جاری رہ سکیں اور اس سلسلے میں حریفوں سے مقابلہ  کیا جاسکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here