پاکستان میں ٹک ٹاک کو بند کیوں کیا گیا؟

742

لاہور: پاکستان میں چینی سوشل میڈیا اور ویڈیو شئیرنگ ایپ ٹک ٹاک پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹک ٹاک پر پابندی غیر قانونی و غیر اخلاقی مواد کی روک تھام کیلئے مؤثر لائحہ عمل تیار کرنے میں ناکامی پر لگائی گئی ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق معاشرے کے مختلف طبقات کی جانب سے ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی اور غیر مہذب مواد کی موجودگی کی سینکڑوں شکایات موصول ہوئی تھیں جس کے بعد ایپ پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا۔

ترجمان پی ٹی اے نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ٹک ٹاک موبائل ایپلی کیشن کوپاکستان کے تمام نیٹ ورکس پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، پی ٹی اے نے موبائل فون کمپنیوں کو بھی اس حوالے سے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔

No description available.

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک انتظامیہ کے ساتھ اپنے تحفظات شیئر کیے گئے تھے اور انہیں پی ٹی اے کی ہدایات پر عمل کے لیے مناسب وقت بھی دیا گیا تھا تاہم ایپ انتظامیہ ہدایات پر عمل کرنے میں ناکام رہی جس کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ اس نے ٹک ٹاک انتظامیہ کو اس بات سے آگاہ کردیا ہے کہ اگر وہ آنے والے دنوں میں ہماری ہدایات کے مطابق غیر اخلاقی مواد کو روکنے کا مؤثر مکینزم تیار کر لیتی ہیں تو پابندی کے فیصلے پر نظر ثانی کی جاسکتی ہے۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ’ٹنڈر‘ اور ’سے ہائے‘ سمیت پانچ ڈیٹنگ ایپس اور لائیو سٹریمنگ ویب سائٹس پر بھی پابندی لگائی تھی جبکہ ویڈیو گیم پب جی کو بھی بند کیا جا چکا ہے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر صارفین پابندی کے حوالے سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں، اکثر سوشل میڈیا صارفین کے مطابق پابندی کسی مسئلے کا حل نہیں، ٹک ٹاک سے وابستہ لاکھوں پاکستانی نوجوانوں کو اپنا ٹیلنٹ دکھا کر روزی کمانے کا موقع ملا ہوا تھا اور اب یہ پلیٹ فارم ان سے چھن گیا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین کے مطابق غیر مہذب مواد کی روک تھام کیلئے پی ٹی اے کو یقینی طور پر سخت قوانین نافذ کرنے چاہیئں لیکن پابندی پر بھی نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here