’گوگل، فیس بک سمیت چار بڑی کمپنیاں کسی کو جواب دہ نہیں‘

ٹیکنالوجی کے شعبے میں مسابقت کو فروغ دینے کے لیے ان بڑی کمپنیوں کی تنظیمِ نو اور ان کے کاروبار کو ریگولیٹ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے: کانگرس کمیٹی

170

واشنگٹن: امریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان کی ایک کمیٹی نے دنیا کی چار بڑی آئی ٹی کمپنیوں پر ہائی ٹیک انڈسٹری میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

پندرہ ماہ کی تفتیش کے بعد جاری کی گئی ہائوس جوڈیشری کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایمزون، گوگل، ایپل اور فیس بک کی طاقت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے لیکن یہ کمپنیاں بظاہر کسی کو جوابدہ نہیں۔

امریکا میں بیشتر ڈیموکریٹک ارکان بڑی ہائی ٹیک کمپنیوں کو ضابطوں کے تحت لانے کے حامی ہیں تاہم ریبپلکن ارکان عمومی طور پر اس کے خلاف ہیں۔

اس سے قبل رواں سال جولائی میں گوگل، ایمازون، فیس بک اور ایپل کے سربراہان کو امریکی کانگریس میں پیش ہونا پڑا تھا جہاں انہیں الزامات کا سامنا تھا کہ مذکورہ کمپنیاں اپنی طاقت کا استعمال حریف کمپنیوں کو کچلنے کیلئے اور اجارہ داری مسلط کرنے کیلئے کر رہی ہیں۔

ان الزامات کے جواب میں ایمزون کے سربراہ جیف بیزوس کا کہنا تھا کہ دنیا کو بڑی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ضرورت ہے جبکہ ایپل، فیس بک اور گوگل کے سربراہان کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنیوں نے ’انوویشن‘ یعنی جدت کو متعارف کرایا ہے۔

فیس بک کے مارک زکربرگ، ایمازون کے جیف بیزوس، گوگل کے سندر پچائی اور ایپل کے ٹم کُک، سبھی کا اصرار تھا کہ انھوں نے کچھ بھی غیر قانونی نہیں کیا اور انھوں نے کمپنیوں کی امریکی ساخت اور اقدار کا حوالہ دیا۔

کانگریس کے اراکین نے الزام لگایا ہے کہ گوگل نے اپنی حریف چھوٹی کمپنیوں کے بنائے ہوئے ایپس کو چوری کیا ہے تاکہ صارفین ان کی اپنی ویب سائٹ پر ہی رہیں۔

اس ک علاوہ ایمازون کا اپنی ویب سائٹ پر اشیاء بیچنے والوں کے ساتھ برتاؤ، فیس بک کی جانب سے حریفوں کو خریدنا جیسے کہ انسٹاگرام اور ایپل کا ایپ سٹور وغیرہ سبھی زیرِ بحث آئے۔

ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے والے ان کمپنیوں سربراہان نے اپنی کمپنیوں کا دفاع کیا اور کہا کہ ان کی کمپنیاں چھوٹے کاروباروں کی مدد کرتی ہیں اور انھیں مارکیٹ میں آنے والی نئی حریف کمنیوں سے خطرہ تھا۔

لیکن پندہ ماہ بعد سامنے آنے والے کانگرس کمیٹی کی 449 صفحات پر مبنی رپورٹ میں حکومت سے سفارش کی گئی ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں مسابقت کو فروغ دینے کے لیے ان بڑی کمپنیوں کی تنظیمِ نو اور ان کے کاروبار کو ریگولیٹ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here