پنجاب حکومت ڈیڑھ لاکھ ٹن چینی درآمد کرے گی، کابینہ نے منظوری دیدی

شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ 1950ء میں ترمیم، حکومت کو کرشنگ سیزن شروع کرنے کیلئے زون وائز تاریخ مقرر کرنے کا اختیار حاصل، گنے کی قیمت مقرر کرنے کیلئے وزارتی کمیٹی تشکیل

101

لاہور: پنجاب کابینہ نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی ڈی پی) اور محکمہ خوراک وکو بیرون ملک سے ایک لاکھ 51 ہزار 700 ٹن چینی در آمد کرنے کی اجازت دے دی۔

وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی زیر صدارت گزشتہ روز صوبائی کابینہ کا 36 واں اجلاس ہوا، اجلاس میں کاروباری آسانیاں پیدا کرنے کے حوالے سے لائسنس کا حصول آسان بنانے کیلئے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ء میں ضروری ترامیم کی منظوری دی گئی۔

پنجاب کابینہ نے ایک لاکھ 51 ہزار 700 ٹن چینی ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعے درآمد کرنے کی منظوری دے دی اور محکمہ خوراک پنجاب کو درآمدی چینی خریدنے کیلئے ٹی سی پی کے ساتھ معاہدہ کرنے کی اجازت بھی دے دی۔

اجلاس میں شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ 1950ء میں ترمیم کا فیصلہ کیا گیا اورکابینہ نے مذکورہ ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دیدی۔ اس ترمیم سے پنجاب حکومت کو کرشنگ سیزن شروع کرنے کےلئے زون وائز تاریخ کا تعین کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔

اجلاس میں گنے کی قیمت مقرر کرنے کےلئے وزارتی کمیٹی تشکیل دی گئی، کمیٹی  تین روز میں اپنی حتمی سفارشات پیش کرے گی۔

اجلاس میں پنجاب پرائیویٹائزیشن بورڈ ایکٹ 2010ء کی شق چار کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے تحت سرکاری اراضی کی نیلامی کے عمل کو ڈویژن میں کمشنر سپروائز کریں گے۔

اجلاس میں عارضی کاشتکاری کی لیز سکیم میں پروپرائٹری رائٹس تفویض کرنے کےلئے پالیسی میں ترمیم کی منظوری دی گئی۔عارضی کاشتکاری کی لیز سکیم کے تحت کسان 31 دسمبر تک درخواستیں جمع کرا سکیں گے۔ کابینہ اجلاس میں سموگ کو قدرتی آفت قرار دینے اور سموگ کو پنجاب کلامیٹز(Calamities ) ایکٹ 1958ء میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف بلا امتیاز کریک  ڈائون کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی پرائس کنٹرول کمیٹی اور انتظامی افسران اشیائے ضروریہ مقرر کردہ نرخوں سے زائد فروخت کرنے والوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کریں، عوام کو مقررہ نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ مہنگے داموں اشیاء فروخت کرنے والوں سے کوئی رعایت نہیں ہو گی۔ زبانی جمع خرچ سے کام نہیں چلے گا، عملی اقدامات کرکے عوام کو ریلیف دیا جائے۔

پنجاب کابینہ کے اجلاس میں 16 مارچ 2016ء کوجنوبی پنجاب فاریسٹ کمپنی کو دی گئی اراضی کے حوالے سے جاری ہونے والے گزٹ نوٹی فکیشن کو ڈی نوٹیفائی کرنے اور جنوبی پنجاب فاریسٹ کمپنی کے اثاثوں کی منتقلی کی منظوری دی گئی۔

کابینہ اجلاس میں نیا پاکستان ہائوسنگ پروگرام کیلئے سرکاری اراضی کی فراہمی کےلئے پالیسیوں میں نرمی کی اصولی منظوری دی گئی جبکہ پنجاب ہائوسنگ اینڈ ٹائون پلاننگ ایجنسی، افورڈ ایبل ہائوسنگ سکیم رولز 2020ء کی بھی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں مینجمنٹ اینڈ ٹرانسفر آف پراپرٹیز بذریعہ ڈویلپمنٹ اتھارٹیز ایکٹ 2014ء کے تحت ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کےلئے جوائنٹ ونچر رولز 2020 ء کی منظوری بھی دی گئی۔

صوبائی کابینہ نے اجلاس میں پنجاب سیف سٹی اتھارٹی لاہور کے مینجنگ ڈائریکٹر اور چیف آپریٹنگ آفیسر کی تعیناتی کی منظوری دے دی۔

اجلاس میں نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ پر عملدرآمد کی ششماہی مانیٹرنگ رپورٹ برائے جنوری تا جون 2018 ء، جولائی 2018ء تا دسمبر 2018ء اور جنوری تا جون 2019ء  پیش کی گئی جسے کابینہ نے منظور کر لیا۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستا ن کی جانب سے گورنمنٹ آف پنجاب کے اکائونٹس برائے سال 2017-18ء، 2018-19ء اور 2019-20ء کی آڈٹ رپورٹس کی بھی منظوری دی گئی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here