‘غلطی سے معطل’ کیے 58 پائلٹس کو جہاز اڑانے کی اجازت

95

لاہور: پاکستان ائیرلائن پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا) نے غلطی سے معطل کیے گئے 58 پائلٹس کو کلئیر قرار دے دیا ہے جس کے بعد سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے مذکورہ پائلٹس کے منسوخ کردہ لائسنس بحال کرتے ہوئے جہاز اڑانے کی اجازت دے دی۔

پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) کے پائلٹس نے لائسنس منسوخی کے خلاف عدالت میں کیسز دائر کر رکھے ہیں جس کی وجہ سے پی آئی اے کافی دباؤ میں ہے۔

ترجمان پالپا نے کہا ہے کہ کُل 141 پائلٹس کو لائسنس منسوخی کا سامنا ہے جن میں سے 31 پائلٹس کا تعلق پی آئی اے سے نہیں جبکہ 26 پائلٹس پر غلط معلومات فراہم کرنے کا الزام ہے۔

اس دوران سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے غلطی سے معطل کیے گئے 58 پائلٹس کی لائسنس منسوخی واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔

مزید برآں ایوی ایشن لسٹ 2020ء کے شائع ہونے سے قبل 20 پائلٹس نے پہلے سے عدالتوں میں کیس دائر کر رکھے ہیں، چھ پائلٹس کے لائسنس ایک سال کے لیے منسوخ کیے گئے لیکن ان کے کیسز ابھی تک عدالتوں میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے:

لاہور ہائیکورٹ، ڈی جی سول ایوی ایشن کو پی آئی اے کے دو پائلٹس کے خلاف کارروائی سے روک دیا

عراقی حکومت نے اربعین کے موقع پر پی آئی اے کو پروازوں کی خصوصی اجازت منسوخ کر دی

ترجمان نے کہا کہ پائلٹس کو لائسنس جاری کرنے کے طریقہ کار سے متعلق پالپا کا مؤقف ہمیشہ سے واضح رہا ہے، کوئی بھی پائلٹ سول ایوی ایشن کے امتحانات اور عملی تربیت کے ساتھ ساتھ پرواز کے مقرر گھنٹے مکمل کر کے کمرشل پائلٹ کا لائسنس حاصل کر سکتا ہے۔

یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ‘انتظامیہ کی ناسمجھی اور غلط سوچ’ کے نتیجے میں دنیا بھر میں خدمات سرانجام دینے والے 120 پاکستانی کمرشل پائلٹس سمیت کویت ائیر ویز سے منسلک 56 گراؤنڈ انجنئیرز کو بے بنیاد الزامات کے باعث نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے۔

پالپا گلوبل ایوی ایشن ایسوسی ایشن کا حصہ ہے اور اقوامِ متحدہ، انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (آئی سی اے او)، پی سی اے اے ایوی ایشن قوانین کی پاسداری کے ذریعے دنیا بھر کے مسافروں اور فلائٹ سیفٹی پر کام کر رہی ہے۔

ترجمان پالپا نے کہا کہ ان کی تنظیم نے کبھی بھی فلائٹ سیفٹی سے متعلق قوانین پر سمجھوتا نہیں کیا، اس حوالے سے انتظامیہ کی رہنمائی بھی کر چکے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here