آئی ایم ایف کی 28 ممالک کیلئے مالی امداد کی منظوری

عالمی مالیاتی ادارے کا کووڈ۔19 کے منفی معاشی اثرات سے نمٹنے کے لئے حکومتوں پر سرکاری شعبہ میں بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت پر بھی زور

221

نیویارک: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے 28 غریب ممالک کے قرضوں کا بوجھ کم کرنے اور کورونا وائرس سے نمٹنے کے اقدامات کو تقویت پہنچانے کیلئے مالی امداد کی منظوری دے دی ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جن ملکوں کے لیے امدادی پیکیج کی منظوری دی گئی ہے ان میں افغانستان، بینن، فاسو، برونڈی، جمہوریہ وسطی افریقہ، چاڈ، جمہوریہ کانگو، جبوتی، ایتھوپیا، گیمبیا، گنی، گنی بسائو، ہیٹی، لائبیریا، مڈغاسکر، ملاوی، موزمبیق، نیپال، نائیجر، روانڈا، ساٹومو اینڈ پرنسپ، سیرالیون، سولومن جزائر، تاجکستان، تنزانیہ، ٹوگو اور یمن شامل ہیں۔

ان ملکوں کو امداد کی دوسری قسط جاری کی جا رہی ہے۔ افریقی ملک مالی بھی اس امداد کے حصول کا اہل ہے تاہم وہاں فوجی حکومت کے باعث عالمی برادری کے خدشات ہیں۔

آئی ایم ایف وسائل کی دستیابی پر مجوزہ گرانت آئندہ دو سال کے عرصے میں (اپریل 2022ء تک) ان ملکوں کو فراہم کرے گا۔ امداد کے حجم کا مجموعی اندازہ 959 ملین ڈالر ( 95 کروڑ 90 لاکھ ڈالر) رہنے کا امکان ہے۔

اس سے قبل اپریل کے وسط میں 25 ملکوں کے لیے اسی طرح کا قدم اٹھایا گیا تھا تاکہ وہ آئی ایم ایف کو اپنے قرضوں کی ادائیگی اور کورونا وباء سے نمٹنے کے لیے ہنگامی طور مالی وسائل فراہم کرنا تھا۔

یہ ریلیف کیٹا سٹروف کنٹینمنٹ اینڈ ریلیف ٹرسٹ (سی سی آر ٹی ) کے ذریعے دیا گیا ہے جو آئی ایم ایف کو قدرتی آفات اور صحت عامہ کے بحرانوں سے متاثرہ زیادہ غریب اور حساس ملکوں تک امداد کی رسائی یقینی بنانے میں معاونت فراہم کرتا ہے۔

دوسری جانب عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ کووڈ۔19 کے منفی معاشی اثرات کی بحالی کے لئے سرکاری شعبہ میں بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

ایک بلاگ میں عالمی مالیاتی فنڈ نے کہا کہ دنیا بھر کی حکومتیں کووڈ۔19 بحران سے نمٹنے کے لئے جامع اقدامات کر رہی ہیں جن کے تحت صحت کے شعبے اور کاروباری بحالی سمیت بنیادی ضروری اشیاء تک رسائی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

تاہم آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ بعد از کووڈ۔19 کاروباری سرگرمیوں کی بحالی میں لوگوں کی مدد کریں تاکہ اقتصادی سرگرمیوں کے اضافہ سے بے روزگاری کی شرح کو کم کیا جا سکے۔ اس حوالے سے پبلک سیکٹر میں بھاری سرمایہ کاری اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here