پاکستانی فن ٹیک کے سی ای او غضنفر خان کے خلاف مبینہ 1.9 ملین ڈالر کے فراڈ کا مقدمہ خارج

262

لاہور: پنجاب پولیس نے زِنگ ڈی جی کام (Zing Digicom)کے چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای او) غضنفر علی خان کے خلاف دھوکہ دہی کا مقدمہ خارج کر دیا گیا ہے، ان پر اپنے کاروباری شراکت دار کو مبینہ طور پر دھوکہ دینے کا الزام تھا۔

سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) لاہور کے حکام نے پرافٹ اردو سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ لیاقت آباد تھانے کے تفتیشی افسر سجاد رشید نے مخالف پارٹی کی جانب سے الزامات کے خلاف شواہد فراہم نہ کرنے کی بنیاد پر ابتدائی معلوماتی رپورٹ (ایف آئی آر) خارج کر دی ہے۔

تفتیشی افسر سجاد رشید نے پرافٹ کو بتایا کہ “ایف آئی آر غلطی سے رجسٹرڈ کی جو میرٹ پر نہیں درج کی گئی تھی، تفتیش کے دوران اصل حقائق اور درخواست گزار کے درپردہ مقاصد کا پتا چلا تو پولیس حکام نے ایف آئی آر کو خارج کر دیا”۔

اورنگزیب خان نے 27 اگست کو ایک ایف آئی آر میں دعوی کیا تھا کہ غضنفر نے 2017 کے وسط میں چین سے 50 ملین روپے کی سرمایہ کاری محفوظ کی تھی اور 150 ملین روپے کی اضافی سرمایہ کاری (1.9 ملین ڈالر) بغیر برانچ کے بینکنگ سروس دینے کے لیے سرمایہ کاری لی تھی۔ بینکنگ اور ٹیلی کمیونیکیشن کا ماہر ہونے کی وجہ سے غضنفر علی خان کو کمپنی کی ترقی کی شرح کو ہینڈل کرنے کے لیے بھاری رقم دی گئی۔

اورنگزیب نے الزام عائد کیا ہے کہ آج تک انہیں کاروبار میں بڑے ٹھیکے لینے کے باوجود کوئی منافع نہیں ہوا ہے۔ اورنگزیب کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر کے مطابق غضنفر علی خان نے اپنے نام سے ایسا ہی ایک کاروبار بنایا اور اس کی ملکیتی کمپنی میں ڈیلز، صارفین کو دھوکہ اور نہ صرف اپنے شراکت دار بلکہ سرمایہ کاروں کو بھی دھوکہ دیا ہے۔

ایف آئی آر کے خارج کرنے پر اورنگزیب خان نے کہا ہے کہ وہ عدالت میں رپورٹ خارج کرنے کا اقدام چیلنج کریں گے۔ لاہور میں عارفہ کریم ٹاور میں واقع زِنگ ڈی جی کام ہیڈکوارٹر بینکنگ انڈسٹری کو فن ٹیک سولیوشنز فراہم کرتا ہے، یہ چینی ٹیکنالوجی پارٹنر (شنگھائی ایف روڈ) کے تعاون سے بنائی گئی ہے۔

ایف آئی آر میں سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے اعدادوشمار کے مطابق زِنگ ڈی جی کام غضنفر علی خان اور اورنگزیب خان کی جانب سے قائم کی گئی تھی، جن کی باالترتیب 34 فیصد اور 66 فیصد ایکویٹی ہے۔

زِنگ ٹیکنالوجیز حقیقت میں 2016 میں مختلف نام سے چلائی جارہی تھی جسے غضنفر علی خان نے جنوری 2019 میں زِنگ ٹیکنالوجیز کے نام سے رجسٹرڈ کرایا، مزید برآں، اورنگزیب خان نے دعویٰ کیا کہ اس دھوکہ دہی سے چین میں انکا تشخص اور پاکستان میں سی پیک منصوبے لانے کے لیے انکا اعتماد متاثر ہوا ہے۔

غضنفر نے کہا کہ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کمپنی کی ساکھ کو متاثر کرنے پر اورنگزیب کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here