’9 ماہ میں کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے 130 کان کن جاں بحق‘

بلوچستان میں حادثے کا شکار ہونے والے کان کنوں کو بھی دیگر صوبوں کے برابر معاوضہ ملنا چاہیے، ای او بی آئی میں رجسٹریشن ہونی چاہیے، پاکستان مائنز لیبر فیڈریشن کا مطالبہ

206

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کو بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 9 ماہ کے دوران کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے 130 کے قریب کان کن جاں بحق ہو چکے ہیں۔

قائمہ کمیٹی کا اجلاس گزشتہ روز چیئرمین سینیٹر محسن عزیز کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں کوئلے کی کانوں میں کان کنوں کی حفاظت کے لئے طریقہ کار کے متعلق قائمہ کمیٹی کی تجاویز پر عمل درآمد نہ ہونے پر سخت نوٹس لیا گیا۔

پاکستان مائنز لیبر فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل سلطان محمد خان نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ملک بھر میں گزشتہ 9 ماہ کے دوران 130 کے قریب کان کن جاں بحق ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام کان کنوں کی ای او بی آئی میں رجسٹریشن ہونی چاہیے، بلوچستان میں کسی حادثے کا شکار ہونے والے کان کنوں کو بھی دیگر صوبوں کے کان کنوں کے برابر معاوضہ ملنا چاہیے۔

قائمہ کمیٹی نے اس سلسلے میں ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے آئندہ اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان اور مائنز و لیبر کے سیکرٹریوں کو بھی طلب کر لیا۔

کمیٹی نے کان کنوں کی حفاظت کے لئے تمام حفاظتی اقدامات اور طریقہ کار اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

کمیٹی کو پشاور کے علاقے ریگی ماڈل ٹاﺅن کے گھریلو صارفین سے قدرتی گیس کے ٹیرف کی بجائے آر ایل این جی کا ٹیرف وصول کرنے کے معاملے پر بھی بریفنگ دی گئی۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس وصولی کا کوئی جواز نہیں بنتا، فیصلہ پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔

لاکھڑا کول ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے ملازمین کو پٹرولیم ڈویڑن کے سرکاری اداروں میں ضم کرنے کے معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ فریقین یہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل کریں۔

کمیٹی نے پی ایم ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر کو ہدایت کی کہ وہ تمام متعلقہ فریقین کی مشاورت سے ان کے شیئرز کا مسئلہ بھی حل کرائیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here