ایف بی آر نے پہلی مرتبہ ایک کھرب سے زائد کا سہ ماہی ریوینیو حاصل کر لیا

پہلی سہ ماہی میں 1004 ارب روپے کا مجموعی ٹیکس جمع، ہدف 970 ارب روپے تھا، 34 ارب روپے کا اضافی ٹیکس اکٹھا ہوا

237

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ریونیو ہدف کی مد میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق ایف بی آر نے پہلی سہ ماہی میں 1004 ارب روپے کا مجموعی ٹیکس اکٹھا کیا ہے جبکہ مقرر کردہ ہدف 970 ارب روپے تھا، اس طرح 34 ارب روپے کا اضافی ٹیکس جمع ہوا ہے۔

رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں انکم ٹیکس کی مد میں 358 ارب روپے، سیلز ٹیکس سے 426 ارب، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 56 ارب اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 164 ارب روپے حاصل ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے: بینکوں کو صارفین کی معلومات ایف بی آر کو دینا ہوں گی

ریکارڈ حاصل ہونے والے ریونیو کے باوجود رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 48 ارب روپے کے ریفنڈز جاری ہوئے جبکہ پچھلے سال جاری کردہ ریفنڈز 26.5 ارب روپے تھے۔ ریفنڈز میں اضافہ کی بدولت معاشی سرگرمیوں میں بہتری آئی ہے۔

کورونا وباء کے باعث معیشت کی سست روی اور حکومت کے فنانس ایکٹ 2020ء میں ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی مد میں خاطر خواہ ٹیکس ریلیف دینے کے باوجود ایف بی آر نے قابل تحسین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جو کہ ٹیکس گزاروں کا حکومت کے ریوینیو اقدامات پر اعتماد کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

ایف بی آر نے ریونیو میں بہتری لانے اور سہولیات کی فراہمی کے لئے کئی اقدامات اٹھائے ہیں۔ ان میں سے لارج ٹیکس پیئر آفس ملتان اور کارپوریٹ ٹیکس آفس اسلام آباد کی تشکیل ہیں۔

پاکستان کسٹمز نے ٹرانزٹ ٹریڈ سے متعلقہ مسائل کے حل کے لئے مو ثر اقدامات اٹھائے ہیں۔ اس اقدام کی بدولت کارگو کی بارڈر مقامات پر نقل و حرکت 30 دن سے کم ہو کر پانچ دن ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ایف بی آر نے جڑواں شہروں سے کتنا ٹیکس جمع کیا؟

وزیر اعظم کے احکامات کے مطابق ٹرانزٹ ٹریڈ سہولتی پورٹل بھی فعال کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کسٹمز نے تمام قانون نافد کرنے والے اداروں جن میں پولیس، فرنٹیر فورس، رینجرز اور میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے ساتھ اشتراک کو مضبوط بناتے ہوئے سمگل شدہ اشیاء کی نقل و حرکت اور ذخیر ہ کی جگہوں پر آپریشنز تیز کر دیے ہیں۔

ان اقدامات کی بدولت ماہ ستمبر میں پاکستان کسٹمز نے ریکارڈ سمگل شدہ اشیاء کی ضبطگیاں کی ہیں۔ ان میں گٹگا، چھالیہ ، خشک دودھ ، سگریٹس، ایرانی ڈیزل، ٹائرز، نان ڈیوٹی پیڈ گاڑیاں، کپٹرا اور سونا جن کی مالیت 6.2 ارب روپے ہے، شامل ہیں۔

پچھلے سال ستمبر میں 3.9 ارب روپے کی سمگل شدہ اشیاء ضبط کی گئیں تھیں جس میں اس سال 56 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں سمگل شدہ اشیاء، جن کی مالیت 14.38 ارب روپے ہے، ضبط کی گئی ہیں جبکہ پچھلے سال پہلی سہ ماہی میں 8.4 ارب روپے مالیت کی اشیاء ضبط ہوئی تھی۔

ایف بی آر تجارتی آسانیوں کے لئے آٹومیشن، ای آڈٹ اور طریقہ کار سہل بنانے کے لئے ہمہ وقت کوشاں ہے۔ ایف بی آر کرپشن، ہراسانی اور اختیارات کے غلط استعمال کے تدارک کے لئے 100 افسران اور اہلکاروں کو معطل بھی کر چکا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here